ریمنڈ ڈیوس کا ایک اور کاری وار

Raymond Davis

Raymond Davis

تحریر : شاہد جنجوعہ لندن
ویسے یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا لیکن مشرف کے دور سے لیکر زرداری کے دور تک جب قوائد سے ہٹ کر بڑی تعداد میں امریکیوں کو ویزوں سے نوازا گیا تھا اور پھر پاکستان امریکی بلیک واٹر کی تفریح گاہ بن گیا تھا تب یہی شاہ محمود قریشی صاحب وزیر خارجہ تھے اور ریمنڈ ڈیوس بھی انہی کی وزارت خارجہ کے دور میں پاکستان آیا بلکہ جب وہ گرفتار ہوا تب بھی قریشی صاحب ہی وزیر خارجہ تھے لیکن شاہ محمود قریشی نے کبھی اس پر احتجاج کیا اور نہ کبھی ان حقائق سے پردہ کشائی فرما کر پاکستانی قوم کی آنکھیں کھولیں۔ پھر زرداری نے قریشی صاحب کو وزارت خارجہ سے ہٹا کر محکمہ پانی و بجلی کا وزیر بنانے کی کوشش کی اور دونوں کے درمیان جگھڑا ہو گیا۔

ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے فیصلے سے عمران خان کا کوئی کردار نہیں بنتا تاہم ایسے شخص کو پارٹی کا وائس چیئرمین بنانے پر سوالات کئے جاسکتے ہیں۔ اگر لاہورئے ریمنڈڈیوس کو موقعے پر پکڑنے کی غلطی نہ کرتے تو دودون بعد ویڈیو ریلیز کردیجاتی کہ یہ قتل ٹی ٹی پی نے کیا یے۔ ریمنڈڈیوس کا بھلا ہو کہ اس نے زرداری اور نوازشریف دونوں کے گٹھ جوڑ کو ننگا کردیا ورنہ یہ پتہ نہیں اور کتنے سال اس قوم کو الو بنائے رکھتے۔ اب بھی یہ بھارتی اور امریکی پٹھو پاکستانی قوم کو نئے نعروں کے جال میں پھنسانا چاہتے ہیں۔ جہاں تک جنرل پاشا کا تعلق ہے انکا کردار کء حوالوں سے مشکوک رہا ہے لیکن ان پر ناکردہ گناہوں کا بوجھ بھی لادنے کی کوشش کی گئی کہ عمران خان کو وہ اٹھا رہے ہیں حالانکہ زرداری نوازشریف مک مکا اور کٹھ پتلی تماشے سے لوگ تنگ تھے متبادل کی تلاش تھی عمران خان نے ان پر کاری وار کیا اور پھر قدرت بھی مہربان ہوئی وہ ملک کی سب ست بڑی اپوزیشن بن گئے۔ تحریک انصاف پر اور بہت سارے سوالات کئے جانے چاہیں کہ یہ لوٹوں لٹیروں کا اڈہ بنتا جارہا ہے تاہم یہ کہنا کہ تحریک انصاف جنرل پاشا نے بنائی احمقانہ بات ہے۔ 1996 میں جنرل پاشا نے سپائی ایجنسی کا سربراہ بننے کا خواب بھی نہیں دیکھا ہوگا اور نہ ہی کسی کے دست شفقت سے خان نے یہ فیصلہ کیا تھا یہ تو انکا اپنا شوق یا مشن تھا۔

میرا سوال یہ ہے کہ اگر ریمنڈ ڈیوس پاکستان کا دشمن تھا جاسوس تھا تو مجھے بتایا جائے کیا جاسوس کبھی سچ بولتا ہے؟ کیا ریمنڈ ڈیوس مسلمان ہوچکا جو میں اسکے انکشافات کو 100% سچ مان لوں۔ ریمنڈڈیوس پہلے بھی امریکی مفادات کیلئے کام کرتا تھا پاکستان آیا اور اپنا ٹاسک مکمل کرکے چلا گیا وہ اب بھی پاکستان کا دشمن اور امریکی مفادات کا نگہبان جاسوس ہے۔ ہاں پاکستان کے دفاعی اور سیکورٹی اداروں کے پالیسی سازوں کیلئے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ امید ہے وہ سبق سیکھیں گے۔

ہم غلام قوم ہیں اور امریکی ہمارے ساتھ ہی سلوک کررہا ہے جو ایک غلام قوم کیساتھ کیا جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ریمنڈڈیوس کے انکشافات کو ھیڈ لاین بنانیوالے چینلز اور اخبارت ملک دشمنی میں ریمنڈڈیوس سے بھی چار ہاتھ آگے ہیں۔ عوام انہیں پہنچانے یہ ریمنڈڈیوس ہی کے ایجنڈے کو لیکر چل رہے ہیں مگر یاد رکھیں امریکی ایجنٹ کل بھی پاکستانی قوم کو تقسیم کرنے کے مشن پر تھا اور آج بھی اس کا مشن یہی ہے۔

استحصالی طاقتیں کسطرح سوچتی ہیں اسکو سمجھنے کیلئے یہ واقعہ پڑھنا اور اسے سمجھنا بہت ضروری ہے۔ایک دفعہ سابق سوویت یونین کے صدر جوزف سٹالن ایک مرتبہ اپنے ساتھ پارلیمنٹ میں ایک مرغا لے آیا اور سب کے سامنے اس کا ایک ایک پر نوچنے لگا، مرغا درد سے بلبلاتا رہا مگر ایک ایک کر کے سٹالن نے اس کے سارے پر اتار دئیے پھر مرغے کو فرش پر پھینک دیا اور جیب سے کچھ دانے نکال کر مرغے کی طرف پھینک دئیے اور چلنے لگا ، مرغا دانا کھاتا ہوا سٹالن کے پیچھے چلنے لگا۔ سٹالن برابر دانا پھینکتا جاتا اور مرغا دانا منہ میں ڈال کر اس کے پیچھے چلتا ہوا آخرکار سٹالن ایک جگہ رک گیا اور اس کا مرغا اس کیپیروں میں آکھڑا ہوا۔

سٹالن نے اپنے کامریڈز کی طرف دیکھا اور کہا۔ غلام قوم اس مرغے کی طرح ہوتے ہیں، وہاں پہلے قوم کا سب کچھ لوٹ کر انہیں اپاہج کر دیا جاتا ہے اور بعد میں معمولی سی خوراک دے کر خود کو ان کا مسیحا بنایا جاتا ہے ”۔اور چند سکوں، چند نوالوں کے عوض، معاشی غلام کا شکار اور اجتماعی شعور سے محروم قوم یہ بھول جاتی ہیں کہ ان کو کس طرح چوپایوں کے درجے پر لا کھڑا کیا گیا ہے۔ آجکل امریکی،اسرائیلی بھارتی اور دیگر پاکستان دشمن قوتوں کا رویہ پاکستان کیساتھ وہی ہے جو سٹالن نے مرغے کیساتھ کیا تھا۔امریکہ نے ایک اجرتی قاتل اور تربیت یافتہ جاسوس پاکستان بھیجا جو اپنے مشن میں ناکام رہا پکڑا گیا۔ امریکہ ہمیں خیرات دیتا ہے , وہ اپنا پالتو لے گیا –اب آپ اگر معزز قوم بننا چاہتے ہیں تو مقامی پالتو پولیو والے ڈاکٹر اور تازہ پالتو ایرانی پاسپورٹ پر آنے والے کلبھوشن کو نشان عبرت بنا کر اپنی ساکھ مجروح ہونے سے بچا سکتے ہیں۔۔

Shahid Janjua

Shahid Janjua

تحریر : شاہد جنجوعہ لندن