ریسرچ اسکالرز کے لیے ایک خوب صورت تحفہ: سہ ماہی تحقیق کی اشاعت جلد

Tahqeeq

Tahqeeq

دربھنگہ (کامران غنی) سہ ماہی ‘دربھنگہ ٹائمز ‘ کی مقبولیت کے بعد دربھنگہ کی سرزمین سے ریسرچ اسکالرز کے لیے ایک علیحدہ رسالہ ‘سہ ماہی تحقیق’ کی اشاعت جلد متوقع ہے۔ اس رسالہ میں صرف اور صرف ریسرچ اسکالرز کے تحقیقی و تنقیدی مضامین شائع کیے جائیں گے۔

یہ اطلاع رسالہ کے مدیر ڈاکٹر منصور خوشتر نے دی۔سہ ماہی دربھنگہ ٹائمز کے بعد سہ ماہی ‘تحقیق’ کی اشاعت کا مقصد بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر منصور خوشتر نے کہا کہ آج ‘ قسمت آزمائی ‘کے میدان میں تحریروں کی’ کیفیت ‘کے بجائے ‘کمّیت’ کی اہمیت مسلّم ہوتی جارہی ہے ۔ اس لیے اب نہ صر ف ریسرچ اسکالرس ، بلکہ قابل ذکر اسکالر وں نے بھی ‘کمّیت’کے بارگاہ میں ہی سرتسلیم خم کر دیا ہے۔

ظاہر سی بات ہے کہ’طولانی معیارپسند ‘ رسالوں تک ریسرچ اسکالروں کی رسائی نہ ممکن ہوگی ۔ کیوں کہ ایک طرف معیار ی تحریریںہو تی ہیں تو دوسری طرف طولانی تعلقات۔ ‘حق دار بہ حق رسید ‘ کے تناظر میں معیاری تحریروں کی اشاعت کا جوازتو ہے ، تاہم طولانی تعلقات’ پڑھنے لکھنے ‘والے ریسر چ اسکالروں کے حق میں مزاحم بن جاتے ہیں۔

چنانچہ ”تحقیق”ایسے ہی ریسرچ اسکالروں کی اشاعت کے لیے مختص ہوگا ، تا کہ نہ وہ احساس کمتری میں مبتلا ہوں اور نہ ہی قسمت آزمائی کے میدان میں ان کا قد بونا نظر آئے۔ البتہ پہلے شمارہ میں ریسرچ اسکالروں کے علاوہ نامور مصنفین کے مضامین بھی شامل اشاعت ہے ، تاہم تنظیمی طور پر آئندہ شماروں ریسر چ اسکالروں کی ہی شمولیت رہے گی۔

سہ ماہی ‘تحقیق’ کی ٹیم میں جہاں ایک طرف نگراں کے طور پر پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی، پروفیسر عبد المنان طرزی اور پروفیسر جمال اویسی جیسی شخصیات ہیں وہیں ڈاکٹر منصور خوشتر کے علاوہ احسان عالم، سلمان عبد الصمد اور کامران غنی صبا جیسے فعال و محترک نوجوان اور ریسرچ اسکالرز شامل ہیں۔

رسالہ کی قیمت صرف پچاس روپیہ رکھی گئی ہے جبکہ سالانہ زرتعاون 200 روپیہ ہوگا۔ مزید تفصیلات کے لیے مدیر رسالہ سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔