روہنگیا مظالم پہ خاموشی بتاتی ہے کہ دنیا دہشت گردی نہیں بلکہ اسلام کے خلاف ہے۔ پاکستان عوامی تحریک ڈنمارک

کوپن ہیگن (اسپیشل رپورٹر) اتوار کے دن کوپن ہیگن کے قلب میں ہونے والے مظاہرے میں ڈنمارک بھر سے مختلف قومیتوں نے بھرپور شرکت کی۔ جس میں ڈنمارک کی دو معتبر سیاسی جماعتوں کی خواتین کے علاوہ، ترک، عرب نمائندوں کی تقاریر بھی ہوئیں ، مظاہرے کی خاص بات ڈنمارک میں پانچ سال سے مقیم ایک روہنگیا مسلم کی تقریر تھی جس نے تقریبا ہرکسی کو یہ بتا کررلا دیا کہ کل اسکی اپنے باپ سے آخری بات بات ہوئی جو میرے بیٹے اور فیملی کے ساتھ جان بچانے کے لیے جنگلوں میں نکلنے والے تھے، لیکن آج صبح یہ خبرآئی ہے کہ ان میں سے اکثر برمی افواج اور بدھوں کے ہاتھوں شہید کردئیے گئے ہیں۔ منہاج القرآن ڈنمارک کے صدر نے اپنی تقریر میں یورپین اور خصوصا ڈینش سیاستدانوں کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا، اور بتایا کہ ہمیں روہنگیا مظالم کے خلاف مظاہرے کرنے کے ساتھ ان کی عملی مدد بھی کرنے ہے جس کے طریقے روہنگیا مہاجرین کے لیے مالی امداد، کھانا، ادویات، کپڑے بھیجنے اور یورپ کے ہربڑے فورم پر ان کے لیے آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے حلقے کے ڈینش سیاستدانوں کو روہنگیا مظالم کے خلاف آواز اٹھانے پر مجبور کرنے کی حکمت عملی شامل ہے۔

Rohingya Deomonstration - PAT Denmark

Rohingya Deomonstration – PAT Denmark

Rohingya Deomonstration - PAT Denmark

Rohingya Deomonstration – PAT Denmark

Rohingya Deomonstration - PAT Denmark

Rohingya Deomonstration – PAT Denmark

Rohingya Deomonstration - PAT Denmark

Rohingya Deomonstration – PAT Denmark

Rohingya Deomonstration - PAT Denmark

Rohingya Deomonstration – PAT Denmark

Rohingya Deomonstration - PAT Denmark

Rohingya Deomonstration – PAT Denmark