باب صحیح بخاری

Sahih Bukhari

Sahih Bukhari

تحریر : شاہ بانو میر

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا

انہوں نے کہا کہ

ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی

انہوں نے کہا کہ

مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا

کہ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک موٹے ریشمی کپڑے کا چغہ لے کر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے

جو بازار میں بک رہا تھا

کہنے لگے

یا رسول اللہ !

آپ اسے خرید لیجئے اور عید اور وفود کی پذیرائی کے لیے اسے پہن کر زینت فرمایا کیجئے

اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

کہ

یہ تو وہ پہنے گا جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں

اس کے بعد جب تک اللہ نے چاہا عمر رہی

پھر

ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کے پاس ایک ریشمی چغہ تحفہ میں بھیجا

حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے لیے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے

اور کہا

کہ

یا رسول اللہ !

آپ نے تو یہ فرمایا

کہ

اس کو وہ پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں

پھر آپ نے یہ میرے پاس کیوں بھیجا ؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

کہ

میں نے اسے تیرے پہننے کو نہیں بھیجا

بلکہ اس لیے کہ تم اسے بیچ کر اس کی قیمت اپنے کام میں لاؤ

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر : شاہ بانو میر