سینیٹ چیرمین؛ اتحادیوں نے فیصلے کا اختیار نواز شریف کو دے دیا

Meeting

Meeting

اسلام آباد (جیوڈیسک) مسلم لیگ (ن) کی اتحادی جماعتوں نے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے امیدواروں کے لیے نواز شریف کو مکمل اختیار دے دیا جب کہ دوسری جانب پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف بھی اپنا امیدوار لانے کے لیے سرگرم ہیں۔

قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور اتحادی جماعتوں کا اجلاس ہوا جس میں سینیٹ کے چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین کے عہدوں کے لیے موزوں امیدواروں پر غور کیا گیا اور سینیٹ الیکشن کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کی گئی۔

اجلاس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں مولانا عبدالغفور حیدری، میر حاصل بزنجو، عثمان کاکڑ، خالد مقبول صدیقی، عامر خان، محمود خان اچکزئی اور دیگر نے شرکت کی۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجہ ظفرالحق، مشاہد اللہ خان، امیر مقام ، شاہ محمد شاہ اور مصدق ملک بھی موجود تھے۔ نواز شریف سے ایم کیو ایم پی آئی بی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں تین رکنی وفد نے بھی ملاقات کی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے رہنما میر حاصل بزنجو نے بتایا کہ اتوار تک چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے ناموں کا اعلان کردیا جائے گا۔ آج ہماری جماعت سمیت دیگر اتحادی جماعتوں نے امیدواروں کے انتخاب کے لیے نواز شریف کو مکمل اختیار دے دیا ہے اور حتمی فیصلہ انہی کا ہوگا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے بتایا کہ اجلاس میں رضا ربانی کا نام بھی زیر بحث آیا ہے اور نوازشریف بھی رضا ربانی کے حق میں ہیں۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کی بھی چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے عہدوں کے لیے سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ چیئرمین سینیٹ کے لیے سلیم مانڈوی والا کے نام پر اتفاق نہ ہونے کے باعث پیپلز پارٹی کی جانب سے بلوچستان سے سینیٹ چیئرمین لانے کے لیے غور کیا جارہا ہے ۔بلاول بھٹو نے رضا ربانی سے ملاقات بھی کی ہے جب کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے۔

ادھر میاں رضا ربانی نے امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے موجودہ سیاسی صورت حال اور سینیٹ انتخابات پر تبادلہ خیال کیا۔ سراج الحق نے کہا کہ اگر سینیٹ کا چیرمین متفقہ طور پر نہ بن سکا تو سیاسی بحران میں اضافہ ہو گا، رضا ربانی کے چیئرمین سینیٹ بننے سے موجودہ سیاسی بحران اور بے یقینی کا خاتمہ ہوجائے گا۔

وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کی سربراہی میں وفد نے پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں بلوچستان کے نومنتخب سینیٹر انوار الحق کاکڑ، ساجد سنجرانی، وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک، فواد چوہدری، جہانگیر ترین اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں نے شرکت کی۔ سیاسی رہنماؤں نے چیئرمین سینیٹ کیلئے بلوچستان کے امیدوار پر غور کیا۔

مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیرمین عمران خان نے کہا کہ ہم کسی صورت نہیں چاہتے کہ ن لیگ کا امیدوار چیئرمین سینیٹ بنے، ہمیں آج وزیر اعلی بلوچستان نے اپنے پینل کو سپورٹ کرنے کی درخواست کی ہے ، پی ٹی آئی کے سینیٹرز بلوچستان سے ان کے پینل کو ووٹ دیں گے، پہلی بار بلوچستان سے چئیرمین سینیٹ بنے گا، ہماری کوشش ہے کہ فاٹا سے ڈپٹی چئیرمین سینیٹ آئے۔

عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ ہم فاٹا ارکان اور دیگر جماعتوں سے بھی حمایت کے لیے ملاقات کریں گے، ہم پینل دیں گے، عمران خان سے درخواست ہے کہ اس پینل کی حمایت کریں اور ہمارے فیصلے میں ہمارا ساتھ دیں، چیرمین شپ لینی ہے تو ہمیں ڈپٹی چیرمین دینا پڑے گا، پی ٹی آئی اور عمران خان کی حمایت پر ان کے شکر گزار ہیں، ہم اب اس پوزیشن میں ہیں کہ پیپلز پارٹی اور دوسری جماعتوں سے بات کرنے میں کامیاب ہوجائیں، پیپلز پارٹی نے بھی بلوچستان سے چئیرمین سینیٹ کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے، پی پی پی زیادہ سیٹوں کے ساتھ مضبوط امیدوار تھی۔

بعد ازاں اسلام آباد میں پی ٹی آئی وفد اور بلوچستان کے آزاد سینیٹرز کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں وزیراعلی خیبرپختون خوا پرویز خٹک، وزیر اعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو، پی ٹی آئی رہنماؤں فواد چوہدری اور دیگر نے شرکت کی۔ تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی کی قیادت میں وفد نے ایم کیو ایم سے مذاکرات کے لیے بہادر آباد مرکز کا دورہ کیا۔ ایم کیو ایم کے رہنما کنور نوید جمیل نے چیئرمین سینیٹ کے لیے فروغ نسیم کا نام تجویز کر دیا۔