حکومت سندھ اسلام مخالف بل واپس لے، راجہ عبد الرازق

Muslim Students Organization

Muslim Students Organization

کراچی : حضرت علی نے اپنے بچپن ہی میں اسلام قبول کیا، سندھ کو اسلام سے متعارف کرانے والا محمد بن قاسم 17 سالہ کمسن لڑکا تھا، باب الاسلام کہلانے والے سندھ میں اسلام پر ہی پابندی لگا کر حکومت کس کو خوش کر رہی ہے، حکومت سندھ نے اسلام مخالف قانون پاس کر کے مسلمانوں کے دلوں کو زخمی کیا ہے، اسلام قبول کرنے پر کسی قسم کی پابندی کو قبول نہیں کرتے، حکومت سندھ غیروں کی روش اختیار نہ کرے۔ حلب میں بمباری پر اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

بشار الاسد انسانیت کا دشمن ہے، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اس ظلم پر آواز نہ اٹھا کر یک طرفی کا مظاہرہ کررہی ہیں، مسلم حکمران شام کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کریں۔ یوم سقوط ڈھاکہ پر دل خون کے آنسو روتاہے ،بنگلہ دیش پاکستان کا جگر تھا بھارت نے اپنے مکروہ عزائم سمیت کالا کردار ادا کرکے پاکستان کو دو ٹکڑے کیا اور دنیا کو اپنا کالا چہرہ دکھایا، ان خیالات کا اظہار مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کراچی کے ناظم راجہ عبدالرازق، معاون ناظم عافیت صدیقی ، ناظم نشرواشاعت محمد عادل، ناظم تربیتی امور بلال اکبر نے جمعہ 16 دسمبر کو کراچی پریس کلب پر احتجاجی طلبہ مارچ میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ 16 دسمبر ملک کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، جس دن کئی مائوں کے لعل اپنے ہی خون میں نہاگئے ، آرمی پبلک اسکول کے شہداء کو کبھی بھلایا نہ جاسکے گا، ہم شہداء کے تما اہل خانہ کے غم میں آج بھی برابر کے شریک ہیں۔ احتجاجی طلبہ مارچ میں ذمہ داران نے مطالبہ کیا کہ حکومت سندھ اقلیتوں کے نام پر پاس کیا جانے والا قانون واپس لے۔ بعد ازاں یوم سقوط ڈھاکہ پر بھارتی کردار، کشمیریوں پر ظلم اور شام میں بمباری کے خلاف بشارالاسد و نرنیدر مودی کی تصاویر اور بھارتی ترنگا نذر آتش کیا۔

محمد عادل انصاری
ناظم اطلاعات مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کراچی ڈویژن
0308-2704815
نوٹ : احتجاجی طلبہ مارچ کی تصاویر پریس ریلیز کے ساتھ میل کر دی گئی ہیں۔