نیند اب نہیں آئے گی

Heart

Heart

زندگی کو ایک پل میں کھو دیا ہم نے
ہائے یہ کیسا کانٹا دل میں چبھو دیا ہم نے
جس نے پھول بچھائے ہماری راہوں میں
اس کی ہی آنکھوں میں، دکھ سمو دیا ہم نے
ہمیشہ لپٹ کر تنہائی کی باہوں سے
خشک آنکھوں سے رو لیا ہم نے
اب یہاں کوئی نہیں،کوئی نہیں آئے گا
دل تنہا کو ،یادوں سے دھو لیا ہم نے
وقت کے دامن میں بندھی ڈوری میں
آج آخری موتی بھی پرو لیا ہم نے
منتظر آنکھوں کو اب نیند نا آئے گی عالیہ
جتنا سونا تھا ، سو لیا ہم نے

عالیہ جمشید خاکوانی