سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس کے تاریخی فیصلے کا خیر مقدم، میاں امجد صدر ورلڈ ڈیموکریٹک فورم

 Mian Amjad

Mian Amjad

پیرس : ورلڈ ڈیموکریٹک فورم کے صدر میاں امجد نے کہا ہے پانامہ کیس کے فیصلے کو خوش دلی سے قبول کرنا اور اس پر عمل کرنا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ضروری ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق صرف سیاستدانوں پرہی نہیں، عدلیہ، فوج ، بیوروکریسی اور میڈیا پر بھی ہونا چاہئے۔ جس کے لئے پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کو مضبوط کیا جائے۔

میاں امجد نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس کے تاریخی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔اس سے ملک میں احتساب کی راہ ہموار اور جمہوریت مضبوط ہو گی ۔فیصلے سے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔ الحمد اللہ ملک میں کرپٹ حکمرانوں کا احتساب شروع ہو گیا ہے ۔ قوم کا مطالبہ ہے کہ جنرل (ر)پرویز مشرف اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری سمیت پاناما لیکس میں بے نقاب ہونے والے دیگر 439افراد کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے .

ورلڈ ڈیموکریٹک فورم کے صدر میاں امجد نے کہا کہ پوری قوم جے آئی ٹی کی جرات مندانہ تحقیقات کو سلام پیش کرتی ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے لئے بغیر کسی دباؤ کے کام کیا جائے۔ ملک میں ہونے والی 4320ارب روپے کی سالانہ کرپشن سے نجات حاصل کر لی جائے تو ہم ترقی و خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ( ن) کو چاہئے کہ وہ فراخدلی سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو قبول کرے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہر آنے والی حکومت نے کرپشن ختم کرنے اور کرپٹ افراد کے احتساب کانعرہ تولگایامگر اس جانب عملی طور پر پیش رفت نہیں کی گئی۔ اداروں کے احترام سے ہی موجودہ ملکی مسائل کاحل نکالاجاسکتاہے۔

انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کے قول وفعل میں تضاد تھا جس کا خمیازہ آج سپریم کورٹ کے فیصلے کی صورت میں انہیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان سیاسی عدم استحکام اور انتشار کامتحمل نہیں ہوسکتا،انہوں نے کہاکہ محاذ آرائی کی سیاست سے دنیا میں غلط پیغام جارہا ہے۔

غیر ملکی سرمایہ دار پریشان اور ملکی معیشت زبوں حالی کاشکار ہے۔بے یقینی کی کیفیت سے کاروباری سرگرمیاں ماند پڑگئی ہیں۔سیاسی چپقلش سے ملکی حالات دن بدن خرابی کی طرف جارہے ہیں۔خراب سیاسی صورتحال کے باعث ملک کو4.25کھرب کانقصان ہو چکا ہے۔