شام پر روس سے امریکی مذاكرات خطرے میں

Syria

Syria

واشنگٹن (جیوڈیسک) امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ امریکہ روس کے ساتھ مذاكرات معطل کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے کیونکہ ماسکو شام کے شہر حلب پر فضا سے بم برسانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

روس کی جانب سے حلب پر اپنے فضائی حملے جاری رکھنے کے اعلان کے کئی گھنٹو ں کے بعد امریکی وزیر خارجہ کیری نے کہا کہ جس طرح بم برسائے جا رہے ہیں، اس کے تناظر میں شام کے معاملے پر روس کے ساتھ ہاہمی رابطہ کاری غیر منطقی ہے۔ یہ ایسے لمحات میں سے ایک ہے جس میں ہم متبادل پہلوؤں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

روس شام کے صدر بشار الأسد کی وفادار فورسز کی جانب سے مشرقی حصے میں واقع باغیوں کے کنٹرول کے شہر حلب پر قبضے کے لیے شروع کی جانے والی مہم کی غیر معمولی سرپرستی کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک عہدے دار نے حلب کی حالت زار کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں سے طبی بنیادوں پر انخلا ء کی ہنگامی بنیادوں پر ضرورت ہے ۔ عہدے دار کا کہنا تھا کہ جنگ کے نتیجے میں تباہی کے شکار اس شہر میں غالباً ایسے افراد کی تعداد سینکڑوں میں ہے جنہیں وہاں سے نکالنے کی ضرورت ہے ۔ اس شہر میں ڈھائی لاکھ افراد بمباری اور گولہ باری کی فضاء میں اپنی زندگی گذار رہے ہیں جو شام کے کسی ایک علاقے میں ایسی سب سے بڑی تعداد ہے۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے نائب مندوب رمزی عزل الدین رمزی نے کہا ہے کہ شہرمیں موجود کھانے کے ذخائر گھٹ رہے ہیں اور بہت سی بیکرں بند ہوچکی ہیں اور صرف 14000 کے لیے خوراک باقی رہ گئی ہے۔