دہشتگردی کے واقعات کے بعد کسی نے استعفے کی ضرورت محسوس کی

Chaudhry Nisar Ali Khan

Chaudhry Nisar Ali Khan

تحریر : سید توقیر زیدی
چلیے یہ تو مان لیا کہ چودھری نثار علی خان ناکام وزیر داخلہ ہیں لیکن ان کے مقابلے میں کسی ایسے کامیاب وزیر کا نام تو لیا ہوتا جس کے دور میں دہشت گردی کم ہوئی۔۔؟ پاکستان میں دہشت گردی کی لہر میں اس وقت تیزی آئی تھی جب امریکہ نے اپنے نائن الیون کے ایک ماہ بعد افغانستان پر تابڑ توڑ فضائی حملے شروع کئے تھے، وجہ ان حملوں کی یہ بتائی گئی تھی کہ اس وقت کی افغان حکومت نے اسامہ بن لادن کو پناہ دی ہوئی تھی جسے امریکہ نائن الیون کا منصوبہ ساز سمجھتا تھا۔ امریکہ نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسامہ بن لادن کو اس کے حوالے کیا جائے، افغان حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ پہلے ایسے شواہد دیئے جائیں جن سے ثابت ہوتا ہو کہ بن لادن نائن الیون کے حملوں میں ملوث ہے، ثبوت دیئے گئے یا نہیں یا پھر یہ ثبوت ناکافی سمجھے گئے۔ افغان حکومت نے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کردیا جواب میں افغانستان پر ”کارپٹ بمباری” شروع کردی گئی جس کے نتیجے میں طالبان کی یہ حکومت ختم ہو گئی۔ یہ حکومت دراصل ایک غیر روایتی حکومت تھی جس کا نہ تو کوئی حکومتی کروفر تھا، نہ اس کے وزیروں کے طور طریقے ایسے تھے جو روایتی حکمرانوں کے ہوتے ہیں۔

حکومت ختم ہوئی تو اس کے تمام وزیر مشیر افغان معاشرے میں رچ بس گئے، پاکستان میں افغان سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کو گرفتار کرکے غالباً گوانتا نامو بے پہنچا دیا گیا۔ انہوں نے اپنی گرفتاری اور دوران گرفتاری اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کی کہانی لکھی جس کی لاکھوں جلدیں فروخت ہوچکی ہیں۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے نائن الیون کے فوراً بعد ایک ٹیلی فون کال پر امریکہ کے وہ تمام مطالبات مان لیے تھے جو انہوں نے کئے، وہ آج تک اپنے اس اقدام کا دفاع کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جو کچھ بھی کیا درست کیا، پاکستان کے مفاد میں کیا، وہ پاکستان کے مفاد کو سب سے پہلے رکھتے ہیں اسی لیے انہوں نے اپنی کتاب ”ان دی لائن آف فائر” کے اردو ترجمے کا عنوان ہی ”سب سے پہلے پاکستان” رکھا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی جگہ کوئی بھی پاکستان کا حکمران ہوتا تو یہی فیصلہ کرتا، ان کا فیصلہ درست تھا یا غلط، اس بحث میں پڑے بغیر ہم اس امر واقعہ کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں کہ ان کے اس اقدام کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی در آئی۔ پہلا خودکش حملہ ان کے دور میں ہوا اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا، ان کے پورے دور میں دہشت گردی کا سلسلہ چلتا رہا، حتیٰ کہ بے نظیر بھٹو بھی ان کے دور میں دہشت گردی کا شکار ہوگئیں۔ وہ کراچی کے حملے میں تو بچ نکلی تھیں لیکن راولپنڈی میں ہونے والا حملہ کامیاب ہوگیا، اسی روز نواز شریف کے قافلے پر بھی حملہ ہوا تھا لیکن وہ خوش قسمتی سے بچ نکلے البتہ ان کے قافلے میں شریک بعض لوگ جاں بحق ہو گئے۔

Terrorism

Terrorism

یہ تفصیل بتانے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ اندازہ ہوسکے پاکستان میں دہشت گردی کا سلسلہ کب اور کن عوامل کی بنا پر شروع ہوا۔ 2008ء کے الیکشن میں پیپلز پارٹی جیت گئی، ابتدا میں مسلم لیگ (ن) اس حکومت میں شریک تھی لیکن یہ رومانس زیادہ عرصے تک نہ چلا۔ جب تک مسلم لیگ (ن) حکومت میں رہی یہی مطالبہ کرتی رہی کہ جنرل پرویز مشرف کے خلاف پارلیمنٹ میں مقدمہ چلایا جائے۔ اس مفہوم کی تحریک قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی تھی یا پیش کردی گئی تھی کہ جنرل پرویز مشرف خود ہی یہ کہہ کر مستعفی ہوگئے کہ پاکستان کا اللہ ہی حافظ۔ اس کے بعد یہ عہدہ آصف علی زرداری نے سنبھال لیا۔ یہ حکومت کتنی اچھی اور کتنی بری تھی اس پر لوگ اپنی اپنی رائے رکھتے ہیں البتہ اس سارے دور میں دہشت گردی اپنے عروج پر رہی۔ چودھری نثار علی خان نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں جس روز کوئی دھماکہ نہیں ہوتا تھا اس روز یہ خبر ہوتی تھی۔ دہشت گردی اور دھماکوں کا حساب کتاب آج بھی کیا جاسکتا ہے اور اگر جٹکا حساب کیا جائے تو جس دور میں زیادہ دہشت گردی ہوئی اس وزیر داخلہ کو کامیاب کہا جائے گا یا ناکام؟ کوئی چودھری نثار علی خان کو کریڈٹ نہیں دیتا تو نہ دے، ان کے استعفے کا مطالبہ کرتا ہے تو کرتا رہے لیکن یہ بات تو ماننی پڑے گی کہ جس دور میں دہشت گردی کم ہوئی ہے وہ چودھری نثار علی خان کی وزارت داخلہ ہی کا دور ہے۔

تجزیہ خبر رساں ادارہ بی این پی کے مطابق اب اگر کوئی یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ناکام وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو مستعفی ہونا چاہئے تو وہ ان کے اس چیلنج کا بھی جواب دے کہ پیپلزپارٹی کے پنج سالہ دور میں دہشت گردی کے چھوٹے بڑے دس ہزار کے لگ بھگ واقعات ہوئے تھے کیا ان کے بعد کسی کلرک نے بھی استعفا دیا؟ ہمارے خیال میں اس سوال کا جواب تو شاید نہ آئے البتہ کوئی نہ کوئی جوابی الزام ضرور لگ جائے گا کیونکہ چودھری نثار بعض لوگوں کی دکھتی رگ ہیں، ان کا مؤقف چونکہ دو ٹوک ہوتا ہے اس لئے مخالفین تو مخالفین، ان کے ایچی سن کالج کے کلاس فیلو عمران خان بھی ان سے خوش نہیں حالانکہ انہوں نے کئی دفعہ انہیں ”بیل آؤٹ” کیا ہے۔ خاص طور پر انہوں نے ”اسلام آباد لاک ڈاؤن” کو جس طرح ناکام بنایا اس پر تو وہ قطعاً قابل معافی نہیں اور کے پی کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک تو ان کے خلاف مقدمہ درج کرانا چاہتے تھے اور یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر وہ ان کے صوبے میں آئے تو انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔

نثار علی خان کی ہدایت پر کے پی سے آنے والے قافلوں کو راستے میں روک لیا گیا تھا۔ چونکہ یہ کام بہرحال طاقت کے استعمال ہی سے ہونے والا تھا اس لیے انہوں نے طاقت استعمال کی، اگر کوئی منتر پھونکنے سے قافلوں کو روکنا ممکن ہوتا تو شاید وہ یہ بھی کرلیتے لیکن جو قافلے دندناتے ہوئے اسلام آباد بند کرانے کیلئے آ رہے تھے انہیں پھونک مار کر تو اڑانا ممکن نہ تھا۔ چودھری نثار علی خان نے ”اسلام آباد لاک ڈاؤن” ناکام بنایا تو نوبت ”جلسہ تشکر” تک پہنچی۔ فرض کریں چکری کا چودھری ناکام ہوجاتا اور اسلام آباد بند ہو جاتا تو کیا تشکر کا جلسہ اسی طرح ہوتا؟ اب ایسے چودھری سے گلہ تو بنتا ہے چاہے وہ پیپلز پارٹی ہو یا تحریک انصاف، نثار علی خان نے کہا کہ عزت کے مقابلے میں وزارت کی کوئی حیثیت نہیں۔ انہوں نے استعفا دیدیا تھا، وزیراعظم نہیں مانے، اب دیکھیں توپوں کا رخ کس جانب ہوتا ہے۔ ویسے 27 دسمبر بھی زیادہ دور نہیں، اس دوران لفظوں کی جنگ جاری رہے گی، اس کے بعد بقول بلاول بھٹو زرداری ”حکومت کو لگ پتہ جائے گا تحریک کیا ہوتی ہے” سو اہل وطن ایسی تحریک کے استقبال کیلئے تیار رہے۔

Syed Tauqeer Hussain Zaidi

Syed Tauqeer Hussain Zaidi

تحریر : سید توقیر زیدی