دہشت گردوں کا علاج، ڈاکٹرعاصم کے وکیل نے رینجرز کے شواہد پر سوال کھڑے کردیے

DRASIM

DRASIM

کراچی (جیوڈیسک) سابق مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم کے خلاف دہشت گردوں کے علاج کے الزام میں کیس کی سماعت کے دوران ان کے وکیل نے رینجرز کے شواہد پر کئی سوال کھڑے کردیئے۔ کراچی میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ڈاکٹر عاصم حسین اور دیگر کے خلاف دہشت گردوں کو علاج کی سہولت فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران ڈاکٹر عاصم کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ڈاکٹر عاصم کے آباو اجداد نے ملک بنانے میں کردار ادا کیا لیکن ان دہشت گردوں کا علاج کرنے کا الزام لگایا گیا۔ بے قصور ہونے کے باوجود انہیں ان ہی کے اسپتال میں ہتھکڑی لگا کر لے جایا گیا۔ ڈاکٹر عاصم کی جے آئی ٹی رپورٹ میں جو کچھ بتایا گیا وہ درست نہ نہیں گرفتاری کے بعد شواہد اکٹھے کرنا عالمی سطح پر قابل اعتبار نہیں۔

ڈاکٹر عاصم کے خلاف جےآئی ٹی کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا جب کہ جے آئی ٹی میں کئی غلط معلومات فراہم کی گئیں، ان کے موکل کے اسپتال پر غیرقانونی چھاپے مارے گئے اور ریکارڈ قبضے میں لے کر ردو بدل کیا گیا،کیس کے گواہ یوسف ستار پہلے غائب رہے اور پھر بیان ریکارڈ کرادیا، ان کے بیان کے بعد شواہد جمع نہیں کیے گئے۔ ڈاکٹر یوسف ستار نے بیان میں کہا کہ دہشت گردوں کا علاج ہوا مگر ڈاکٹر عاصم کو جب اسپتال لے جایا گیا تو اس وقت ڈاکٹر یوسف ستار وہاں موجود نہیں تھے، اگر وہ اہم گواہ ہیں تو انہیں وہاں موجود ہونا چاہئے تھا۔

جے آئی ٹی میں بتایا گیا کہ اسپتال سے 28 دہشت گردوں کے علاج کے بل ملے ہیں لیکن جن دہشت گردوں کے میڈیکل بل پیش کئے گئے وہ بھی غلط ہیں، رینجرز کی جانب سے پیش کیے ریکارڈ میں سب سے خطرناک ملزم شیراز کامریڈ کا نام ہے، 2013 میں شیراز کامریڈ کی عمر 82 سال بتائی گئی ہے کیا وہ اس عمر میں دہشت گردی کرتا رہا۔