پتلی تماشہ

Imran Khan

Imran Khan

تحریر : منظور احمد فریدی
اللہ جل شانہ کی لامحدود حمد وثناء ذات کبریا جناب محمد مصطفی کریم کی پاک بارگاہ میں کروڑ ہا بار درودوسلام کے نذرانے پیش کرنے کے بعد راقم الحروف نے آج جو تحریر اپنے قارئین کی نظر کی ہے موجودہ ملکی صورت حال میں اپنے دیکھے ہوئے مداریوں کے وہ پتلی تماشے جیسی ہے جس میں ایک فن کار متعدد پتلیوں کو اپنی انگلیوں کی مدد سے سٹیج پر اس طرح حرکت دیتا ہے کہ دیکھنے والے دم بخود رہ جاتے ہیں پتلی کے ساتھ منسلک دھاگے کا سرا اسکی انگلی کی حرکت سے اسے ناچنے پر چلنے پر جھکنے پر مجبور کر دیتا ہے وطن عزیز ملک پاکستان کی روز اول سے یہ بد بختی ہی رہی ہے کہ اسے آج تک وہ حکمران نہ ملا جو اسکی عوام کو خالصتا اسلامی شعار اپنانے اور ریاست کے حصول کے وقت لگائے نعرہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ کو بنیاد بنا کر عوام پر حکومت کرتا تو اس بات میں کوئی شک ہی نہیں کہ آج اسلامی جمہوریہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہوتا تاریخ کے متعدد ابواب گواہ ہیں کہ متحدہ ہندوستان پر مسلمانوں نے حکومت کی اور اپنے کردار و اعمال سے اپنے آپ کو مسلمان ثابت کیا قرآن پاک وہ کتاب ہے جس میں اللہ نے سب سے قبل یہی ارشاد فرمایا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔

قرآن پاک میں ہی ارشاد ربانی ہے کہ بے شک یہود و نصاریٰ تمھارے دوست نہیں ہوسکتے انگریز وہ مکار و عیار قوم ہے جو اپنے اقتدار کے لیے ہر وہ حربہ استعمال کرجاتی ہے جسے مسلم غیرت مند حاکم سوچ بھی نہیں سکتا نورالدین زنگی صلاح الدین ایوبی اور دیگر مجاہدین اسلام کی حیات کا مطالعہ کرنے سے ایسی کئی تلخ باتیں ملتی ہیں جنہیں پڑھ کر قاری سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ وہ لوگ سیرت وکردار کے کتنے پختہ تھے صلاح الدین ایوبی کا لشکر جارہا ہے بلکہ لشکر اسلام جارہا ہے راستہ میں گھنے جنگل کے قریب ایک ندی کے کنارے نوخیز لڑکیوں کا ایک قافلہ جو نیم عریاں لباس زیب تن کیے ہوئے ہے پائوں میں پائل اور حسن بے حجاب مجاہدین اسلام کا راستہ روک لیتا ہے مگر کسی بھی جوان کی نظر انکے حسن کو دیکھنے کے بجائے اپنے سپہ سالار کی حرکت ابرو کی منتظر ہے جب سپہ سالار نے اپنا عمامہ اتار کر ان نیم عریاں لباس والی لڑکیوں میں سے آگے والی کے جسم پر ڈال دیا تو سب نے اسکی اتباع میں ایسا ہی کیا پھر امیر نے ان سے وہاں کھڑے ہونے کا پوچھا تو انہوں نے شرمندگی اور ندامت سے انکشاف کیا کہ ہم عیسائی بادشاہ کی طرف سے آپکو گمراہ کرنے کے لیے باقاعدہ ڈیوٹی پر ہیں تو سپہ سالار نے انہیں بتایا کہ مسلمان وہ قوم ہے جسے حسن عریانی اور دیگر ایسی اشیاء گمراہ نہیں کرسکتیں۔

خاص طور پر جب ایک مجاہد گھر سے جہاد کے لیے نکلتا ہے تو اسکی نظر صرف اپنے ہدف اور دشمن کی چال پر ہوتی ہے وہ گھر سے نکلتے وقت اپنے اہل وعیال کو خدا کی پناہ میں سونپ کر اپنا کفن سر پہ باندھ کر نکلتا ہے سپہ سالار کی اس گفتگو سے وہ پورا گروہاپنے ارادے سے تائب ہو کر اسلام کے کام آ یا مکار انگریز کو یہ بات ہضم نہ ہوئی تو اس نے اس بات پر ایک خصوصی ٹیم لگا دی کہ وہ مسلمان کے دل سے غیرت ایمان نکالے اس مقصد کیلئے اس نے عورت پیسہ اور زمین کا بے دریغ استعمال کیا اس کا نشانہ ہندوستان کے وہ امراء تھے جو اپنی ریاستو ں میں اسلامی حکومت قائم کیے ہوئے تھے یہ حکمران صوم وصلوٰةکے اتنے پابند تھے کہ حکومتی امور کے ساتھ ساتھ مساجد میں امامت کے فرائض بھی انجام دیتے تھے انگریز نے انہیں زن زر زمین کے نشہ کا عادی بنایا اور اس کی کامیابی کی سب سے بڑی مثال موجودہ پاکستان میں یہ ہے کہ آج کوئی وڈیرہ جاگیردار شعائر اسلام سے اتنا دور ہے کہ امامت اس کا فرض ہے مگر شاید ہی کسی جاگیر دار کو اسلام کے بنیادی مسائل سے بھی آگاہی ہو امام مسجد کو ایک جزوی ملازم کی حیثیت دے دی گئی اور امراء اور جاگیردار اسلام سے اتنا ہی دور ہوگیا جتنا انگریز چاہتا تھا۔

Pakistan

Pakistan

نتیجہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے جس میں وہ مہاجرین بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنا تن من دھن سب اس لیے قربان کردیا کہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہوگی جہاں انہیں اسلامی مساوات کا معاشرہ میسر ہوگا مگر یہاں تو گنگا الٹی چلی ہمارے اسلامی شعار کو اغیار نے اپنا لیا اور آج پوری دنیا پر انکے حکمر انوں کی مثالیں دی جاتی ہیں چائنہ ملائشیاء اور دیگر کئی ایسی ریاستیں جن کے حکمرانوں نے وہ قوانین اپنائے جن کا حکم اسلام دیتا ہے اور آج وہ حکمران اقتدار سے دور رہ کر بھی اپنے ملک کی عوام کے علاوہ عالمی سطح پر عوام کی دلوں میں بستے ہیں ڈاکٹر مہاتیر محمد ملائشیا کے حکمران اسی طرح ترکی کے حکمران کل ٹی وی پہ ہمارا ن لیگیا میاں برادران کا یار غار احسن اقبال بیٹھا ترکی اور سنگا پور کے عوام اور حکمرانوں کی مثالیں دے رہا تھا انکو شائد علم نہیں یا تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے تھے کہ ترکی کے صدر طیب اردگان کا حقیقی بھائی فروٹ کا ٹھیلہ لگاتا ہے اور سنگا پور جیسے ملک میں اگر کسی حکمران پر کوئی الزام آجائے تو وہ اخلاقی طور پر ہی اقتدار سے علیحدگی اختیار کرلیتا ہے۔

انکی مثالیں عوام کو دینے کے بجائے اپنے گریبانوں میں جھانکو اور اپنے گرو مہاراج کو بھی بتائو کہ عالمی منظر نامہ میں دل چسپی رکھیں خیر پاکستانی قوم کو شائد اس بات کی فکر ہی نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے جو حقائق میڈیا دکھا رہا ہے عوام کے لیے وہ بھی ایک تماشہ ہی ہے کیونکہ سیاست میں شامل ہر گرو فنکار نے میدان میں چھوڑی ہوئی سب پتلیوں کے دھاگے اپنی انگلیوں سے باندھ رکھے ہیں اور پتلی کی کیا مجال کہ وہ دھاگہ کھینچے جانے پر ناچے نہ ممکن ہی نہیں اخبارات میں شائع ہونے والے بیانات گواہ ہیں کہ دھاگے ہلائے جارہے ہیں ایک بیان نظر قارئین ہے ،،،مسلم لیگ ن ہی ملکی سلامتی کی ضمانت ہے شیخ جواد ،،،کر لیں جو کرنا ہے اس سے بڑھ کر ایک اور بیان ہے ،،،۔

دھرنا پارٹی کو ملکی ترقی ہضم نہیں ہورہی ،،،یہ بھی ایک ن لیگ کی پتلی کا بیان ہے اب وہ ترقی اس قوم کو نظر کیوں نہیں آتی جس کا ہر بچہ پیدا ہونے سے قبل اغیار کا مقروض ہے ایٹمی طاقت ہوتے ہوئے بھی اقتدار کی دھینگا مشتی میں لگے حکمران جانے کب اس عوام پر رحم کرینگے اب ایک نیا پتلی تماشہ اسلام آباد میں جاری ہے دیکھیں دھاگے ہلانے والے کب اور کیسے ہلاتے ہیں چور سپاہی کے اس کھیل میں حقیقت کا رنگ بھی بھر جائے خدا کرے کہ اصلی سپاہی آکر سارے چوروں کو پکڑ لیں اور پھر پتلیاں صندوقوں میں بند کرنے کے بجائے جیلوں میں بند ہوں مگر دھاگوں والی انگلیوں بلکہ پورے ہاتھوں سمیت والسلام۔

Manzoor Faridi

Manzoor Faridi

تحریر : منظور احمد فریدی