سچی بات اور کڑا احتساب

Accountability

Accountability

تحریر : شیخ توصیف حسین
ایک دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والی عورت اپنے بچے کے ہمراہ جا رہی تھی کہ اسی دوران علاقے کے نمبردار کا جنازہ وہاں سے گزرا جس کو دیکھ کر اُس بچے نے اپنی والدہ سے پو چھا کہ یہ کس کا جنازہ جا رہا ہے جس کا جواب دیتے ہوئے والدہ نے اپنے بچے کو کہا کہ یہ ہمارے علاقے کے نمبردار کا جنازہ ہے والدہ کی اس بات کو سننے کے بعد بچے نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ اب ہمارے علاقے کا نمبردار کون ہو گا جس پر اُس کی والدہ نے کہا کہ اس کا بیٹا ہمارا نمبردار ہو گا جس پر بچے نے ایک بار پھر پو چھا کہ اگر اس کا بیٹا بھی مر گیا تو پھر ہمارا نمبردار کون ہو گا جس پر والدہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا یہ سب کے سب مر جائے تب بھی تو نمبردار نہیں بن سکتا بالکل اسی طرح کہ جب تک ضلع جھنگ کے مفاد پرست سیاست دان جو دیمک کی طرح چاٹ کر ضلع جھنگ کو ہڑپ جبکہ یہاں کی عوام کو اپنے بنیادی حقوق سے محروم کر کے انھیں مختلف پریشانی سے دوچار کر رہے ہیں۔

اگر حقیقت کے آئینے میں دیکھا جائے تو یہ وہ ناسور ہیں جو ڈریکولا کا روپ دھار کر غریب عوام کا خون چوس رہے ہیں یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا ہوا یوں کہ گزشتہ روز بلدیہ جھنگ کے پنشنرز جن کے سر کے بال آ وارہ بادلوں کی طرح بکھڑے ہوئے ہونٹ مرجھائے ہوئے خشک پتوں کی طرح آ نکھوں میں آ نسو سمندر کی اٹھتی ہوئی لہروں کی طرح جسم پر پھٹے پرانے کپڑے زیب تن کیئے ہوئے تھے قصہ مختصر کہ وہ بے بسی اور لا چارگی کی تصویر بنے ہوئے تھے نے مجھ سے مخا طب ہو کر کہنے لگے کہ بھائی توصیف ہمارا قصور کیا ہے جو ہمیں بلدیہ جھنگ کا چیرمین شیخ نواز اکرم عرصہ تقریبا چار ماہ سے پنشن دینے سے قاصر ہے دل تو چاہتا ہے کہ ہم اپنے اہلخانہ کے ہمراہ آئے روز بھوک اور افلاس سے تڑپ تڑپ کر مرنے کے بجائے ایک ہی بار خود کشی کر لیں پنشن نہ ملنے کی وجہ سے دوکانداروں نے بھی اب ادھار دینا بند کر دیا ہے ساری زندگی ملک وقوم کی خدمت کرنے کا یہ صلہ ملا ہے کہ آج ہم اپنے بچوں کو سردیوں کے کپڑے وغیرہ دلوانے سے بھی قاصر ہیں۔

وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف جو بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ میرا پڑھا لکھا پنجاب کیا یہی پڑھا لکھا پنجاب ہے کہ آج ہم اپنے بچوں کے سکولوں کی فیس بھی ادا کرنے سے قاصر ہیں جس کے نتیجہ میں سکولوں کی انتظامیہ بر وقت فیس ادا نہ کرنے کے عوض ہمارے بچوں کو ہتک آ میز رویہ اپنانے کے بعد انھیں سکولوں سے نکال رہے ہیں جن کو آ وارہ گلیوں میں کھیلتا ہوا دیکھ کر ہم خون کے آ نسو روتے ہیں آپ یقین کریں یا نہ کریں لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہم اس پنشن سے نہ صرف اپنا علاج معالجہ بلکہ دو وقت کی روٹی کھا لیتے تھے لیکن اب اس پنشن کے نہ ملنے کے سبب ہم اکثر بھوکے روتے ہوئے سو جاتے ہیں ہم فریاد بھی کریں تو کس سے کریں اُن کی ان باتوں میں ایک درد اور دکھ تھا جس کو سننے کے بعد میں افسردہ ہو کر اُن سے کہنے لگا کہ آپ کی پنشن کی بر وقت ادائیگی تو بلدیہ جھنگ کے چیف آ فیسر انور بیگ کی اہم ذمہ داری ہے کیا وہ آپ سے تعاون نہیں کر رہا میری اس بات کو سنتے ہی وہ آگ بگولا ہو کر کہنے لگے کہ چھوڑو جی اس کو یہ تو ایک کٹھ پتلی آ فیسر ہے جو صرف چیرمین بلدیہ جھنگ کے گھر کی لونڈی بن کر اپنے فرائض و منصبی ادا کرنے میں مصروف عمل ہے درحقیقت تو یہ ہے کہ یہ چیف آ فیسر نہیں بلکہ چیرمین بلدیہ جھنگ کا منشی ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ متعدد بار سیکرٹری بلدیات پنجاب کی جانب سے یہ احکامات جاری ہو چکے ہیں کہ ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے افراد کو نہ تو نکالا جائے اور نہ ہی رکھا جائے بلکہ انھیں قانون کے مطا بق تین سال کا عرصہ گزرنے کے بعد انھیں مستقل کر دیا جائے لیکن افسوس کہ چیرمین بلدیہ جھنگ کا یہ منشی ان احکامات کو سگریٹ کے دھواں کی طرح ہوا میں اڑاتے ہوئے خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے میں مصروف عمل ہے افسوس ناک پہلو تو یہ ہے کہ بلدیہ جھنگ کا چیرمین نجانے کتنے افراد کو سیاسی انتقامی کاروائی کا نشانہ بنا کر بے بنیاد اور من گھڑت الزامات لگا کر نوکری سے نکال چکا ہے۔

اس کے باوجود بھی مذکورہ منشی نجانے کس مصلحت کے تحت خاموش تماشائی بنا ہوا ہے یہی کافی نہیں مذکورہ منشی جس کا منہ مومناں اور کرتوت کافراں ہے غریب خاکروبوں سے ایسا سلوک رواں رکھے ہوئے ہے کہ جیسے ہندو برہمن قوم اچھوتوں سے مذید برآں یہ ہے کہ مذکورہ منشی اپنے سیاسی آقا کی مداخلت پر سیوریج مین اسحاق نامی شخص کو جو غیر قانونی طور پر کلرک کی سیٹ پر بر جمان تھا کو مذید چیف سینٹری انسپکٹر کے عہدے پر فائز کر کے قانون اور آئین کی دھجیاں اُڑا دی ہیں اور تو اور اس قانون شکن اہلکار کے والد اسماعیل جو کہ ٹبہ ریگستان کی زرعی زمین پر بطور موٹر ڈرائیور تعنیات تھا کو مذکورہ زرعی زمین کا ٹھیکہ کوڑیوں کے بھائو دیکر ضلعی حکومت کو لاکھوں روپے کا ٹیکہ لگا دیا ہے یاد رہے کہ مذکورہ اہلکار جس نے کمال ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذکورہ ٹھیکہ عارضی طور پر کسی اپنے خاندان کے فرد کے نام کروا رکھا ہے جس کی دیکھ بھال اور پانی کی سپلائی از خود چوری کر کے قانون کی آ نکھوں میں دھول جھونک رہا ہے جس کے اس گھنائونے اقدامات کو دیکھ کر یوں محسوس ہو تا ہے کہ یہاں پر قانون کی نہیں بلکہ قانون شکن عناصر کی حکمرانی ہے بھائی توصیف مذید آپ کو یہ آ گاہ کر دیں کہ چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں بڑے میاں سبحان اللہ جبکہ یہاں کے باقی ماندہ سیاست دانوں کی لوٹ کھسوٹ کے نتیجہ میں ضلع جھنگ جس کا حدود اربعہ جو کبھی شیخوپورہ سمندری اور خانیوال سے جا ملتا تھا آج صرف اور صرف تحصیل شورکوٹ اور تحصیل جھنگ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

توصیف بھائی یہاں آج ہم آپ کو مذید یہ آ گاہ کرتے چلے کہ ایسا کیوں ہوا ہے چونکہ یہاں کے مفاد پرست سیاست دان اقتدار کے نشے میں دھت ہو کر اور بالخصو ص یہاں کے تمام کے تمام اداروں کے سربراہوں کو ڈرا دھمکا کر اپنے تابع بنانے کے بعد صرف اور صرف کاغذی کاروائی کر کے ضلع جھنگ کی تعمیر و مرمت کی مد میں ملنے والے کروڑوں اربوں روپے از خود ہڑپ کر کے ضلع جھنگ کو پسماندگی کی راہ پر گامزن کرنے میں مصروف عمل رہے ہیں یہی کافی نہیں مذکورہ سیاست دان حکومت پاکستان کی جانب سے ملنے والے نوکریوں کے کوٹے کو بھی فروخت کر کے اپنے ضمیر اور ایمان کا سودا کرنے میں مصروف عمل ہیں جس کے نتیجہ میں ضلع جھنگ کی آج سڑکیں سیوریج کے نظام کے ساتھ ساتھ ٹریفک کا نظام ریلوے اسٹیشن جنرل بس سٹینڈ تباہ حالی کا شکار جبکہ ان مفاد پرستوں کے ذاتی بسوں اور ویگنوں کے ناجائز اڈے قائم جن سے یہ مفاد پرست سیاست دان آئے روز لاکھوں روپے جگا ٹیکس وصول کرنے میں مصروف عمل ہیں۔

بجلی اور گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں دن بدن اضا فہ پاکستان بننے سے لیکر آج تک طلبا و طالبات یونیورسٹی سے محروم گلیوں اور محلوں میں غلاظت کے انبار جن کی وجہ سے غریب آ بادی کے افراد متعدد موذی امراض میں مبتلا ہو کر بے بسی اور لا چارگی کی تصویر بن کر رہ گئے ہیں ڈی ایچ کیو ہسپتال جھنگ کی تمام کی تمام مشینری زنگ آ لودہ جبکہ غریب مریض بیڈوں سے محروم لاتعداد طلباء و طالبات سرکاری سکولوں کی خستہ حالی کی وجہ سے کھلے آ سمان کے نیچے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور جھنگ سٹی کی عوام کیلئے واحد نواز شریف پارک تباہ حالی کا شکار موٹر وے کا نہ ہو نا چو کی علی آ باد سے صوفی موڑ تک جگہ جگہ پر گہرے کھڈے اور بجلی کا نہ ہو نا مذکورہ سیاست دانوں کی مجرمانہ خاموشی کا اور بالخصوص لوٹ مار کا نتیجہ ہے لہذا اگر موجودہ حکومت ضلع جھنگ کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا حصہ سمجھتی ہے تو انھیں مذکورہ سیاست دانوں کا کڑا احتساب کر کے لوٹی ہوئی قومی دولت کو واپس لیکر قومی خزانے میں جمع کروائیں اور احتساب بھی ایسا جیسے سعودی عرب کی حکومت نے اپنے وزیروں اور شہزادوں کا کیا ہے یا پھر چین جیسا۔

بک گیا دوپہر تک بازار کا ہر ایک جھو ٹ
اور میں شام تک یونہی ایک سچ کو لیے کھڑا رہا

Touseef Hussein

Touseef Hussein

تحریر : شیخ توصیف حسین