حج محض تفریح کا نام نہیں ہے

Hajj

Hajj

تحریر:صادق رضا مصباحی ،ممبئی

حج ایک عظیم اسلامی عبادت ہے اس کی پنہائیوں میں جتناگم ہوں گے اس کی حکمتوں کے درواہوتے جائیں گے اور نفیس طبیعتیں ایک لطیف سی روحانی لذت محسوس کریں گی ۔ممکن ہے کہ آج کے انسان کویہ دعویٰ محض ہوائی معلوم ہو مگر اس کا کیا کیا جائے کہ مادیت پرستی نے ہمارے جسموں سے دین کی وہ حقیقی روح نکال لی ہے جوص حیح معنوں میں ہماراورثہ رہی ہے اورالحادیت وبے دینی نے ہمارے ان موروثی افکاروخیالات کومسموم کرکے رکھ دیاہے جوصدیوں تک پوری دنیاکارخ متعین کرتے رہے ہیں۔

ظاہرہے جب انسان مادیت کی فضامیں سانسیں لیتاہوتواسے اسلامی عبادات ومعمولات کاذائقہ کیسے محسوس ہوگا ۔اسلام کی ساری عبادات، معمولات اور تیوہاروں کے فلسفے بہت عظیم اور گونا گوں ہیں جواپنے اپنے طورپرامت مسلمہ کو متحد رہنے کی دعوت دیتے ہیںمگر حج کا فلسفہ اتناعظیم فلسفہ ہے جوان تما م فلسفوں اورحکمتوں پربھاری ہے ۔اس کے فلسفے اورحکمتیں اتنی ہیںکہ الفاظ کاتوشہ توختم ہوجائے گامگراس کی سرحدیں ختم نہ ہوں گی۔ اگرآج بھی صحیح طورپرحج کے تقاضوں ،ا س کے مقاصداورپس منظراورپیش منظرکوعملی طورپرسمجھ لیاجائے توہمارے گلشن میں وہی پھول کھلنے لگیں گے جس کی خوشبوسے پوراعالم معطررہاکرتاتھا۔

اسلام کے اور دیگر تیوہا رتوصرف ایک محلے اورشہرکی حدتک یااپنے رشتے داراورخاندان کی حد تک خبرگیری ،صلہ رحمی ،مساوات ،اخوت اور ہم دردی کرنے کے فلسفے سے عبارت ہیںمگرحج عالمی طورپرپوری دنیاکے مسلمانو ںکی ہم دردیاں بٹورنے، ان کے دکھ دردتقسیم کرنے ،ان کی خوشی میں شریک ہونے ،ان کے مسائل سننے اورممکنہ حدتک ان کے مسائل حل کرنے پرزوردیتاہے۔حج کے موقع پرچوں کہ پوری دنیاکے مسلمان جمع ہوتے ہیںا س لیے ایک دوسرے کے حالات جاننے سمجھنے اورپھراسی تناظرمیں اپنے حالات کاتجزیہ کرنے نیزاسی کے مطابق پالیسیاں بنانے میں بہت مددملتی ہے مگریہ بڑے قلق کی بات ہے کہ اب یہ ساری چیزیں محض کتابوں میں بندہیںان پرعمل محض خواب بنتاجارہاہے۔

دوسری عبادات کی طرح یہ بھی محض ایک رسمی سی عبادت بن کررہ گئی ہے۔خدامعلوم کہ ایسوں کا حج قبول بھی ہوتاہے کہ نہیں ۔آج لوگوں کوسعودی عرب گھومنے ، شاپنگ کرنے ،ہوائی جہازمیں سفرکالطف اٹھانے،ائرکنڈیشن ہوٹلوں ،ریسٹورینٹوں میں کھانے پینے اورقیام کرنے کے مواقع میسرآتے ہیںاوریہ بے چارے مسلمان اسی میں مست رہتے ہیںان کوا س سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ حج کرنے کاحکم کیو ںدیاجارہاہے ،اس کے پیچھے کو ن سا مقصدہے، رمی، سعی، طواف اورکنکری مارنے نیزایک وقت میں دودو نماز یں پڑھنے کاحکم کیوں دیاجارہاہے ۔یہ بس یوں ہی ہے یایہ کہ اس کے پیچھے زائرین حرم کی تربیت کرنامقصودہے۔

عموماًا س کوچالیس دنو ںکاٹورسمجھاجاتاہے ۔مالدارلوگ اپنے لیے کھانے پینے اوررہنے سہنے کانہایت معیاری قسم کاانتظام کراتے ہیں اور چالیس دنوں کی تفریح کے بعدہزاروں روپے کی شاپنگ کرکے مراسم حج کے دوران رٹے رٹائے جملے دوہراکروطن واپس آجاتے ہیں۔حج کی قبولیت کی علامت یہ بتا ئی گئی ہے کہ حج کرنے کے بعدانسان وہ غلطیاں نہ کرے جووہ حج کرنے سے قبل کرتارہاہے ۔ہمارے آج کل کے مسلمان بھائیوں کے عمومی رویوں میں حج کے بعدبھی کوئی تبدیلی نہیں آتی ا س لیے ان کے حج کی قبولیت کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہاجا سکتا۔

آپ حج کے اس پہلوپرغورکریں اورا س کوتدریجی طورپراس طرح سمجھیں کہ اسلام نے مسلمانوں پرایک دن میں پانچ وقت کی نماز جماعت سے پڑھناواجب قراردیاہے ۔ انفرادی طورپراپنے گھرمیں نمازپڑھنے سے اسے ستائیس گناافضل درجہ والابتایاہے ۔اللہ کواپنی عبادت توکرانامقصودتھی وہ چاہے جہاں بھی ہومقصدپوراہوجاتامگراس کے باوجودخدانے مسلمانوں کوفرض نمازوں کی ادائیگی کے لیے مسجدوںمیں آنے کاحکم دیااورترغیب وتشویق کے لیے نمازیوں کے مراتب بھی بلندفرمائے ۔یہ محض اس لیے کہ مسلمان جب پانچ وقتوں کی نمازپڑھنے مسجدمیں جائے گاتوایک دوسرے سے میل جول بڑھے گامصافحہ معانقہ ہوگاتوایک دوسرے کے تئیں محبت کاجذبہ پروان چڑھے گا۔

Mosque

Mosque

جماعت کے وقت چوں کہ محلے کے لوگ یاقریب اورآس پاس علاقے کے لوگ مسجد میں جمع ہوتے ہیںا س سے ایک دوسرے کی خیرخبر معلوم ہوتی رہتی ہے، تبادلۂ خیال ہوتارہتاہے اورلوگ ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔اس کافائدہ یو ں سمجھا جاسکتاہے کہ اگرکوئی صاحب جوہرروز پنج وقتہ نماز کے لیے مسجدمیں حاضرہوتے ہوں اوروہ صاحب اچانک مسجد میں آنا بند کردیں تو لوگوں کے دلوں میں تشویش پید اہونالازمی ہے کہ وہ صاحب آج مسجدمیں کیوں نہیں آئے کیاان کوکوئی تکلیف ہے؟ وغیرہ وغیرہ ۔اسی طرح کاایک واقعہ حدیث شریف میں ہے کہ ایک صحابی روزانہ مسجد میں حاضرہوکرباجماعت نمازاداکرتے تھے

مگرایک دن اچانک وہ حاضرنہ ہوئے اورمسلسل کئی وقتوں تک کسی بھی نمازمیں نہ آسکے تو آخر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھ ہی لیاکہ فلاں صاحب پہلے نماز کے لیے آتے تھے اب نہیں آتے ،کیابات ہے ؟صحابہ نے عرض کیاکہ حضوران کی طبیعت ناسازہے۔یہ سن کرحضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے صحابۂ کرام کے ساتھ ان صحابی کی عیادت کوتشریف لے گئے۔

ہفتے میں ایک دن جمعے کادن آتاہے ا س میں بڑی تعدادمیں لوگ جمع ہوتے ہیںاوردیگرمحلے والے بھی ایک مسجدمیں جمع ہوجاتے ہیں۔اس دن ذراوسیع پیمانے پرلوگ ایک دوسرے کے رابطے میں آتے ہیں،ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرتے ہیںاورایک دوسرے سے مل کرمسرت کااظہارکرتے ہیںاورحسا س دل افراد،غیرحاضررہنے والوں کی بھی خیریت معلوم کرلیتے ہیںاورایک دوسرے کاپیغام پہنچادیتے ہیں۔جمعہ سے بڑھ کرایک موقع اورآتاہے جس میں سارے شہر کے مسلمان ایک مقام پرجمع ہوکرایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔یہ عیدالفطریاعیدالاضحی کاموقع ہوتاہے ۔ا س مبارک موقع پر اور زیادہ بڑے پیمانے پرمسلمان ایک دوسرے سے رابطے میں آتے ہیں،خیروخبرکاتبادلہ ہوتاہے اورپورے شہرکے حالات ایک دوسرے کے ذریعے معلو م ہوتے ہیں۔

غورفرمائیے کہ اسلام تدریجی طور پر مسلما نو ںکووحدت کی لڑی میں پرونے
کے کیاکیاانداز اپنارہاہے اورا س پس منظرمیں انہیں کس انداز سے باہم جڑے رہنے کی تلقین کررہاہے اوربھائی چارگی ،رحم دلی، صلہ رحمی اورمساوات کودرجہ بدرجہ اپنانے کاحکم دے رہاہے ۔اس سے ذراایک اورقدم آگے بڑھیں توحج کاموقع آتاہے حج کے دوران ایک دو ملک نہیںبلکہ پوری دنیاکے مسلمان اکٹھے ہوتے ہیںیہ وسیع ترموقع ہوتاہے ایک دوسرے سے ملاقات کرنے ،تبادلۂ خیالات کرنے ،ایک دوسرے کی خیریت معلوم کرنے اورایک دوسرے کے مسائل جاننے اورسمجھنے کا۔اگریہ حسین موقع نہ ہوتاتوپوری دنیاتوکیاایک ہی ملک کے اپنے مسلمان بھائیوں سے ملاقات اوران کی خیرخبرلینابہت مشکل بلکہ قریب ناممکن ہوجاتا۔

مگرحج نے یہ موقع فراہم کردیاکہ مسلمان ایک دوسرے سے واقف ہوں اوراپنے اندرونی وخارجی حالات کو جانیں اوراجتماعی طورپراپنے خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت کریں۔ اس کاجونفسیاتی اورروحانی اثرپڑ ے گا وہ ظاہرکے ساتھ ساتھ باطن کی بھی تطہیرکرے گا۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام حج کے ذریعے کیاپیغام دیناچاہتاہے۔جب تک حج کے اس پہلوپراجتماعی اندازسے عمل نہیں کیاجائے گااس کی برکتوںاورسعادتوں کادروازہ ہم پربندرہی ہے گا۔اگراجتماعی طورپرنہ سہی انفرادی طورہی اس پرعمل کرلیاجائے توکوئی وجہ نہیں کہ اس کے فوائدوبرکات سے ہم مستفیض نہ ہوں۔

ہماراایک المیہ یہ بھی ہے کہ مالدارمسلمان حج پرحج کرتاچلاجاتاہے اوررسمی طورپرحج کرکے وطن واپس آجاتاہے اورخودکوحاجی کہلانے پرفخرمحسوس کرتاہے ۔ حج کاجومقصدہے یعنی تذکیۂ نفس وہ اسے چھوکربھی نہیں گزرتا۔خدائے تعالیٰ نے حج کومحض اس لیے فرض کیاتھاکہ مسلمانو ںکوسرزمین عرب کہ جہاں سے اسلام کی پہلی آواز گونجی تھی اس وادی کی سیرکراکرانہیں ا ن کے اسلاف کی یادتازہ کرائی جائے اورنبی رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اوران کی مقدس صحابہ کی جماعت کی مشکلا ت جو انہیں راہ اسلام میں پیش آئیں ان مقامات کووہ اپنی آنکھوںسے زیارت کرے ،ا س زمانے کی مشکلات کااندازہ کرے۔

ان کی تعلیمات کواپنے عمل سے زندہ کرنے کی کوشش کرے اوروہاں سے اپنے لیے اپنی فکر،عمل ،سیرت ،کردار،شخصیت کی غذاحاصل کرے جواس کی دنیوی اوردینی زندگانی کے سفرمیں کمک کاکام کرے ۔ کیاہم حج پر جانے کے بعدا س پیغام پرعمل کرتے ہیںجوچودہ سوسال سے اب تک دیاجارہاہے اورقیامت تک دیاجاتارہے گا۔معاف کیجیے اگران مقاصدپرعمل نہیں کیاگیا آپ لا کھ حج کرلیں مگرحج کے فوائدحاصل ہوہی نہیںسکتے۔

حج کی سعادت بلاشبہہ نصیب والوں کوحاصل ہوتی ہے یہ سعادت انہیں لوگوں کے حصے میں آتی ہے جن کااللہ عزوجل کے یہاں سے بلاواآتاہے مگر ہمار ے دولت مندبھائیوںنے اس مقدس عبادت کوفیشن سمجھ لیاہے ان میں سے بعض حضرات حج پہ حج کرتے ہیںاورپھرفخریہ ا س کی تشہیرکرتے ہیں۔یہ بھی دیکھاگیاہے کہ انہیں حضرات کے بھائی بہن یاکوئی قریبی رشتے داریاپڑوسی کی ضروریات پوری نہیں ہوپاتیں غربت کی وجہ سے نہ وہ علاج کراسکتے ہیںاورنہ اپنے بچوں کوخوش رکھ پا تے ہیںنہ اپنی بیٹیوں کی شادی کرسکتے ہیں اوریہ جناب حج پرحج کرتے چلے جاتے ہیںان لوگوں کی طرف توجہ دینابھی گوارانہیں کرتے۔ہم سب کواجتماعی طورپراس سلسلے میں غورکرنے کی ضرورت ہے۔ شایدیہی وجہ ہے۔

اسلام میں صرف ایک بارحج فرض کیاگیاہے اس کے پیچھے اللہ عزوجل یہ پیغام دیناچاہتاہے کہ حج ضرورایک بڑی اسلامی عبادت ہے لیکن یہ صرف زندگی میں ایک بارفرض ہے باربارنہیں۔ اگرآپ کے پاس دولت ہے تواگلے سال حج کرنے کے بجائے اتنی رقم کسی ضرورت مند، قرض خواہ اورغریب کودی دے جائے ۔ حج کرنے کے بعدیہ یقین سے نہیں کہاجاسکتاکہ وہ وواقعی خداکے یہاں مقبول ہوگیاہے کیوں کہ ہمار ے اعمال اورعبادات اتنے کچے ہیںکہ انہیں دیکھ کرحج مبرورکی ضمانت نہیں دی جاسکتی لیکن اگراتنی ہی رقم کسی حاجت مندکوخلوص دل سے دے دی جائے توبارگاہ الٰہی میں اس کی قبولیت یقینی ہے اس سے خداتوخوش ہوگاہی وہ ضرورت مندبندہ بھی اس کواپنی دعائوں میں یادرکھے گا۔

اس کایہ مطلب نہیں ہے کہ حج فرض کرنے کے بعددوسراحج بالکل نہ کیاجائے اگرحج کے پیغامات کوعملی طورپربرتنے کی اللہ نے توفیق دی ہے توضرورحج کیجیے لیکن اگرحج کے تقاضے ،حکمتیں ،مصلحتیں اورمطالبے پرعمل کیے بغیرمحض تفریح اورٹورکے لیے حج کیا گیا تو ایسا حج قیامت کے دن منہ پرمارد یا جائے گا۔ حج کی تشہیراورا س کافخریہ اظہاراگراظہارنعمت کے لیے ہے توباعث ثواب ہے لیکن اگردولت کے اظہار کے لیے ہے توپھرہمیں عذاب کے لیے تیاررہناچاہیے۔

Message

Message

قصہ مختصرحج صرف تفریح کانام نہیں ہے بلکہ ایک عظیم روحانی اورجسمانی عبادت ہے جس کا واضح مقصد دو لفظوں میںیہ ہے کہ پوری مسلم کمیونٹی کا تذ کیہ کر دیا جائے اور ا س کی فکری وعملی تطہیرکے سامان فراہم کردیے جائیں اگرہم یہ پیغام پہنچانے میں ناکام رہے توہمیں اپنی عبادتوں اور معمولات پر نظرثانی کرناہوگی بلکہ اپنے دعویٰ مسلمانی پرہی تنقیدی نظر ڈالنی ہوگی۔کیاآپ ا س امتحان کے لیے تیارہیں؟

تحریر:صادق رضا مصباحی ،ممبئی
موبائل:09619034199
EMAIL:SADIQRAZA92@GMAIL.COM