کبھی محبت تمام لکھ کر کبھی ہواوں پہ نام لکھ

کبھی محبت تمام لکھ کر کبھی ہواوں پہ نام لکھ کر ستم گر نے سارے ستم توڈ ڈالے مجھے عشق میں نا تمام لکھ کر اسے میں نے دی تھی انگوٹھی نشانی کہ جسکے مشاحبے تھی میری کہانی اسی نے مجھے اپنے دل سے نکالا میرے دل پی اپنا سلام لکھ کر کوئی مجھسے میرا کلام جانے محبت میں میرا مقام جانے مجھے دی سزایں میری دللگی کی دیوانوں کے صف میں میرا نام لکھ کر میری تیشنگی کا یہ عالم ہے یارو سمندر بھی دریا بھی سوکھے ہیں پیارو مجھے بادلوں نے بھی رسوا کیا ہے بارش کی بوندوں پے الزام لکھ کر صبح چڑتا سورج تھا ،ٹھنڈی ہوا تھی میرے مرض ِِ دل کی اسی میں دوا تھی مگر راز اُس نے بھی دھ‎

Love

Love

جعفر حسین کوہلی