چھوڑ جائیں گے

Sad

Sad

تیرے اس شہر کے موسم سہانے چھوڑ جائیں گے
نجانے کس گھڑی گزرے زمانے چھوڑ جائیں گے
طلب ہوگی نہ پھر تجھ کو کسی حرف و حکایت کی
تیرے ہونٹوں پہ ہم ایسے فسانے چھوڑ جائیں گے
عَلم لے کر بغاوت کے کئی عشاق نکلیں گے
فضا میں شہر کی سرکش ترانے چھوڑ جائیں گے
بھلا پائے گی کب دنیا انہیںجو اس تمدن میں
نئے ملبوس پہ پیوند پرانے چھوڑ جائیں گے
اسے کہنا نفی اثبات کی اِن رہگزاروں میں
حیات و موت کے سارے بہانے چھوڑ جائیں گے

ساحل منیر