پارہ: الم 1 سورةالبقرة مدنیہ رکوع 11 آیت 87 سے 96

Quran

Quran

تحریر : شاہ بانو میر

ہم نے موسیٰ کو کتاب دی

اس کے بعد پے درپے رسول بھیجے

آخر کار عیسیٰ ابن مریم کو روشن نشانیاں دے کر بھیجا اور روحِ پاک سے اس کی مدد کی

پھر یہ تمہارا کیا ڈھنگ ہے

کہ

جب بھی کوئی رسول تمہاری خواہشاتِ نفس کے خلاف کوئی چیز لے کر تمہارے پاس آیا

تو تم نے اس کے مقابلے میں سرکشی ہی کی

کسی کو جھٹلایا اور کسی کو قتل کر ڈالا

وہ کہتے ہیں ہمارے دل محفوظ ہیں ــــ نہیں

اصل بات یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر اللہ کی پھٹکار پڑی ہے

اس لئے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں

اور

اب جو ایک کتاب اللہ کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے

اُس کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ ہے؟

باوجود !! یہ کہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے

جو

ان کے پاس پہلے سے موجود تھی

باوجود یہ کہ

اس کی آمد سے پہلے وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح و نصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے

مگر

جب وہ چیز آگئی

جسے وہ پہچان بھی گئے

تو

انہوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا

خدا کی لعنت ان منکرین پر

کیسا برا ذریعہ ہے

جس سے یہ اپنے نفس کی تسلی حاصل کرتے ہیں

کہ

جو ہدایت اللہ نے نازل کی ہے اس کو قبول کرنے سے صرف اس ضد کی بنا پر انکارکر رہے ہیں

کہ

اللہ نے اپنے فضل (وحی و رسالت) فضل سے اپنے جس بندے کو خود چاہا نواز دیا

لہٰذا

اب یہ غضب با لائے غضب کے مستحق ہو گئے ہیں

اور

ایسے کافروں کیلیۓ سخت ذلت آمیز سزا مقرر ہے ـ

جب ان سے کہا جاتا ہے

کہ

جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے

اس پر ایمان لاؤ تو وہ کہتے ہیں

ہم تو صرف اس چیز پر ایمان لاتے ہیں

جو ہمارے ہاں ( یعنی بنی اسرائیل میں ) اتری ہے

اس دائرے کے بعد جو کچھ آیا ہے اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں ـ

حالانکہ

وہ “”حق”” ہے ـ

اور

اس تعلیم کی تصدیق و تائید کر رہا ہے جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی ـ

اچھا

ان سے کہو اگر تم اس تعلیم ہی پر ایمان رکھنے والے ہو جو تمہارے ہاں آئی تھی٬

تو اس سے پہلے اللہ کے ان پیغمبروں کو

( جو خود بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے تھے )

ٌکیوں قتل کرتے رہے ؟

تمہارے پاس موسیٰؑ کیسی کیسی روشن نشانیوں کے ساتھ آیا پھر بھی تم ایسے ظالم تھے٬

کہ

اس کے پیٹھ موڑتے ہی بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے

ٌپھر

ذرا اس میثاق کو یاد کرو جو طور کو تمہارے اوپر اٹھا کر ہم نے تم سے لیا تھا٬

ہم نے تاکید کی تھی ٌ

کہ

جو ہدایات ہم دے رہے ہیں ان کی سختی کے ساتھ پابندی کرو

اور

کان لگا کر سنو

تمہارے اسلاف نے کہا

کہ

ہم نے سن لیا ” مگر مانیں گے نہیں ”

اور

ان کی باطل پرستی کا یہ حال تھا

کہ

دلوں میں ان کے بچھڑا ہی بسا ہوا تھا

کہو ؟

اگر تم مومن ہو تو یہ عجیب ایمان ہے

جو

ایسی بری حرکات کا تمہیں حکم دیتا ہے ـ

ان سے کہو

کہ

اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لئے مخصوص ہے ـ

تب تو تمہیں چاہیے کہ موت کی تمنا کرو

اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو ـ

یقین جانو

کہ

یہ کبھی اس کی تمنا نہ کریں گے٬

اس لئے کہ اپنے ہاتھوں جو کچھ کما کر انہوں نے وہاں بھیجا ہے

اس کا “”اقتضا”” یہی ہے( کہ یہ وہاں جانے کی تمنا نہ کریں )

اللہ ان ظالموں کے حال سے خوب واقف ہے ـ

تم اُنہیں سب سے بڑھ کر جینے کا حریص پاؤ گے٬

حتیٰ کہ

یہ اس معاملے میں مشرکوں سے بھی بڑہے ہوئے ہیں ـ

ان میں سے ایک ایک شخص یہ چاہتا ہے

کہ

کسی طرح ہزار برس جئے

حالانکہ

لمبی عمر بہرحال اُسے عذاب سے دور نہیں پھینک سکتی٬

جیسے کچھ اعمال یہ کر رہے ہیں ٬

اللہ تو انہیں دیکھ ہی رہا ہےـ

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر : شاہ بانو میر