عورت کو عزت دیں

Woman

Woman

تحریر : شاہ بانو میر

اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے
ہم نے اس قرآن کو شبِ قدر میں نازل کیا ہے
اور تم کیا جانو کہ شبِ قدر کیا ہے؟
شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے
فرشتے اور روح اُس میں اپنے ربّ کے اِذن سے ہر حُکم لے کر اترتے ہیں
وہ رات سراسر سلامتی ہے
طلوعِ فجر تک
القدر
لیلة القدر میں اتارے گئے اس قرآن کے بعد اللہ نے ہمیں پیارا پاکستان بھی لیلة القدر میں ہی عطا کیا
بیش قیمت رات لمحہ لمحہ اللہ کا شکر ادا کرنے کی رات ہے
عبادت کرنے کی گناہ معاف کروانے کی رات ہے
قرآن مجید نے صدیوں سے زندہ گاڑی جانے والی عورت کو پہلی بار دنیا میں باعزت مقام دیا اور بتایا
کہ
عورت ماں ہے تو اس کے پیروں کے نیچے جنت ہے
بیٹی ہے تو رحمت ہے
جہالت کے بُت پاش پاش کر کے عورت کو محترم مقام عطا کیا گیا
گھر اور خاندان کی دیکھ بھال اور بچوں کی بہترین پرورش کا فریضہ سونپا گیا
یہی وجہ ہے
کہ
اُس وقت کہیں ہمیں خالد بن ولید نظر آتے ہیں کہیں صلاح الدین ایوبی دکھائی دیتے ہیں
کہیں محمد بن قاسم محمود غزنوی
کہیں امام بخاریؒ امام ابن تیمیہ ؒ جیسے جلیل القدر لوگ دکھائی دیتے ہیں
ایک وہ دور تھا جب عورت کو پردے میں رہنے کا حکم دے کر گھر کے ماحول کو پرسکون بنایا گیا
بیرونی تمام ذمہ داریاں شوہر کے سپرد کر کے مرد کو عورت “”قوام”” بنایا گیا
عورت کی محفوظ پناہ گاہ اس کا گھر اسلام نے عطا کیا
باہر دنیا کی سختیاں سہ کر رزقِ حلال کما کر بیوی بچوں کیلئے کمانے کی ذمہ داری مرد کو سونپی گئی
فطرت نے مرد کو عورت پر قوام کا درجہ دیا جسے کوئی نظام کسی صورت مسترد نہیں کر سکتا
فطرت سے ٹکراؤ نظام کی معاشرتی طرز عمل کی تباہی ہے
آج 14 صدیاں گزرنے کے بعد پاکستان میں فرزندِ اسلام اسی عورت کو پردے سے باہر لا کر
اپنے “”قوام “” ہونے کی خود نفی کر رہے ہیں
آج دکھ سے لکھنا پڑ رہا ہے کہ
فیشن شو میں لڑکی تو لہنگا ہو یا سوٹ بغیر دوپٹے کے اٹھلاتی چلی آتی ہے
دوسری جانب 6 فٹ کے کڑیل جوان جو اس ملک کے محافظ بن سکتے تھے وہ 3 میٹر کا بھاری کامدار دوپٹہ اوڑھے
لٹکتے مٹکتے زنانہ انداز میں دیکھے جا رہے ہیں؟
یہ کون لوگ ہیں جو معاشرے میں زنخے پن کو فروغ دے رہے ہیں؟
اس کا مقصد کس کو خوش کرنا ہے؟
یہ بے دین جاہل کونسا معاشرہ تشکیل دے رہے ہیں؟
یہی سوچ کا ہیجڑہ پن اب مضبوط سیاست میں بھی دکھائی دینے لگا ہے
جہاں مرد تنتنا کر کمزور عورت سے مقابلہ کر کے خود کو کیا ثابت کر رہے ہیں؟
پاکستان میں ہر سیاسی جماعت نے عورتوں کو خوش آمدید کہا
اور
انہیں بغیر قابلیت کے محض برادری یا رشتے داری کی بنیاد پر مخصوص سیٹ دلوا دی گئ
ملک میں بظاہر تازہ خوشگوار تبدیلی کا احساس پیدا ہوا مگر یہ عارضی اور جز وقتی تھا
اس کے خطرناک ثمرات خواتین کی توہین کی صورت اب سامنے آ رہے ہیں
الیکشن جوں جوں قریب آ رہا ہے کمزور سیاسی سپورٹر حریف کو نیچا دکھانے کیلئے
عورتوں پر الزام تراشی کر رہے ہیں
بے سروپا الزامات صرف سیاست کرنے کی خاطر کیسا ظلم ڈھا رہے ہیں
کوئی سوچ رہا ہے؟
عورتوں کے ساتھ اس طرح مقابلہ کیا مردانگی ہے؟
مردوں کو کیا ہوگیا ہے؟
اس زنخہ طریقہ کار کا کون اصل محرک ہے ؟
ہر طرف سے تواتر سے حملے صرف عورتوں پر ہی کیوں؟
سیاست مردوں کا دلیرانہ کھیل تھا جسے بہادری سے مضبوط اعصاب والے زِیرک سیاستدان کھیلتے تھے
کیسی ہوا چلی کہ
مردوں نے فطرت کے قانون کو چیلنج کر کے پہلے تو
پاکستان کی سہمی ہوئی اس عورت کو گھر سے باہر نکالا
خود کاروبار چمکائے خوب مالی فوائد حاصل کئے
ایک تجربہ کامیاب ہوا تو روشنیوں سے باہر نکال کر اسے سیاست میں داخل کیا گیا
یہاں بھی جب خواتین نے پاؤں جما لئے
تو
تبدیلی تبدیلی کا نعرہ لگا تے لگاتے مرد دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہو گئے
ٹاک شوز ہوں یا انٹرویو ہر جانب خواتین ہی جماعتوں کا تعارف بن گئیں
اس بات کو سراہنا چاہیے تھا اگر حوصلہ پیدا کر لیا تھا
مگر
ہم ابھی کچی سوچ رکھنے والے کچے لوگ ہیں
جیسے ہی الیکشن آئے تو
ان خواتین کے لئے ذہنی تعفن اس طرح فضا میں پھیلایا گیا کہ فضا ہی متعفن کر دی گئی
ماہ رمضان کا تقدس سب تباہ کر دیا اس ڈائن سیاست نے
ماہ رمضان توہر ایک سے بیگانہ کر کے اپنے رب کو منانے کا شعور دیتا ہے
رمضان احتیاط کا فکر کا ادراک دیتا ہے
اس بار
نہ عبادتیں کیں نہ معافی مانگی
ستم بالائے ستم اس قسم کی گندگی دل بھر کے پھیلائی الامان الحفیظ
انہیں اللہ کا ڈر رہا نہ روز محشر کا جس میں کوئی شک نہیں؟
یاد رکھیں
انسان ہیں انسان ہی رہنے دیں ان کے پیچھے اپنی عاقبت تباہ نہ کریں
ہر سیاتدان کو جذباتی٬ جوشیلے٬ بڑ بولے٬ منہ پھٹ٬ بد لحاظ٬ بد تمیز٬ سپورٹرز چاہیے
انہیں مخالف کے خلاف بھڑکا کر استعمال کر کے ہی سیاسی بساط کا پانسہ پلٹا جاتا ہے
دونوں جانب ایسے افراد بھرتی کئے جاتے ہیں
لیکن
اس بار دونوں اطراف سے صرف خواتین کیلئے تحقیر اور تذلیل نے نئی سیاسی پستی دکھائی
پہلی بار رمضان میں اتنی بد لحاظی دیکھی
دلوں سے ذہنوں سے دوزخ کا خوف ختم ہو گیا
نجات کی تمنا مدہم ہو گئی
عبادت برکت رحمت سکینت سب کچھ چھٹ گئی
پیچھے کیا رہ گیا؟
صرف عورت
یہ کیا تماشہ ہے؟
کہاں ہیں وہ طاقتور ملک کے نگہبان جن کے زیر سایہ کمزور عورتیں اور بچے بے خوف زندگی گزارتے تھے
برابری کے اس المناک تصور نے آج عورت کو آلہ کار بنا کر رکھ دیا
سوشل میڈیا سیل تو لگتا ہے مسلمان نام کو بھی نہیں رہ گئے
صرف ان کا ایک ہی تعارف ہے
سپورٹر
جس طرح 2018 کے الیکشن کے آغاز سے پہلے ہی ہر سیاسی قوت عورت کو ہتھیار بنائے میدان میں اتر رہی ہے
اس سے پتہ چل رہا ہے کہ کتنے بڑے سیاسی سورما ہیں سب کے سب
عورت سے بات شروع ہو رہی ہے اور عورت پر ہی بات ختم ہو رہی ہے
کیسی تحقیر کیسی زبان عورتوں کیلئے مخالفین لکھ رہے ہیں بول رہے ہیں
صرف اور صرف عذاب الہیٰ کو دعوت دینے کے مترادف ہے
مخالفت میں گندگی مردوں پر اچھالی جانی چاہیے نا کہ عورتوں پر
سیاست سے جب حریف کو چِت نہیں کر سکے تو مردہ ایشوز کو سامنے لانا
افسوس ناک ہے
ہمت ہے تو براہ راست ایشوز پر مناظرہ کریں
خوبیاں خامیاں نظام کی بیان کریں
کس نے کیا کیا اور کیا نہیں کیا
عوام کے کٹہرے میں آئیں حساب کے ساتھ
سیاست کمزور عورتوں سے نہیں براہ راست مردوں کے ساتھ کریں
عورت کو چراغِ خانہ ہی رہنے دیں شمع محفل بنا کر
جس طرح اس کو خوار کیا جا رہا ہے اس میں کوئی جماعت کسی سے کم نہیں ہے
“” پاکستان میں سیاست کا کامیاب عنوان صرف عورت “”
جہاں عورت کھڑی کر دی جائے وہیں سے کامیابی شروع
یعنی
سیاست
عورت سے شروع عورت پر ختم
ایسا ہی ہے تو
سیاستدانوں کیلئے چوڑیاں بنوا لیتے ہیں اور بانٹ دیتے ہیں
اگر
موجودہ طرزسیاست کو عورت سے ہٹا کر سنجیدہ مسائل پر لانا ہوگا
ہر سیاسی جماعت کے جوشیلے سپورٹرز کوسوچنا ہوگا خود کو بدلنا ہوگا
یہ بزدلانہ انداز سیاست نا منظور ہے
سیاست کریں اپنی اقدار روایات کا جنازہ نہ نکالیں
کیا تبدیلی لا رہے ہیں آپ سب ؟
عورتوں کی تذلیل ؟
جرآت ہے تو مقابلہ برابری کی سطح پر مردوں سے کریں
مردوں کو ہدف تنقید بنائیں تا کہ کرارہ جواب ملے
عورت
ہر روپ میں معزز ہے اس کی تحقیر نہ کریں
عورت کو عزت دیں

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر : شاہ بانو میر