عورت تجھے جاگنا ہے

Woman

Woman

تحریر : شاہ بانو میر

چار دیواری بنا کر اوپر چھت ڈال کر حصوں میں تقسیم کرنے سے انسان مکان بناتا ہے ۔
اس مکان میں جب اس کا کنبہ آباد ہوتا ہے تو وہ مکان گھر بن جاتا ہے ۔
اس گھر کی ملکیت اس گھر کی حکومت مکمل طور پے عورت کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔
قدرت نے قدرتی طور پے عورت کو تخلیق کار بنایا اور اس تخلیق میں صبر تحمل برداشت اور اعلیّ مقاصد کے ساتھ خاندان کی پرورش کا مادہ بھی رکھ دیا ۔
گھر کی عورت میکہ جائے یا کچھ دنوں کیلیۓ علیل ہو جائے تو گویا گھر کا شیرازہ بکھر جاتا ہے ۔ چھوٹی سی چھوٹی معمولی سے معمولی چیز اس کی تحویل میں ہے یہی وجہ ہے
گھر میں بچے ہوں یا شوہر بھائی ہو یا باپ ہمیشہ کسی نہ کسی رشتے کے حوالے سے خاتون کو ہی پکار کر مطلوبہ چیز کی فراہمی کا مطالبہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
بچوں کی تعلیم و تربیت رشتے داروں کے ساتھ گھریلو معاملات ۔ اندرونی باریک حساس معاملات تمام کا تمام دراصل عورت سے منسوب ہے ۔
مالکہ ملکہ رانی چوہدارنی جاگیردارنی الغرض جو چاہیں علاقوں کے حساب سے اسے نام دیں وہ جچتی ہے ان کے ساتھ ۔
سوچیں
کتنی طاقتور ہے یہ عورت کس قدر جامع منصوبہ ساز ۔ کس قدر بھاری بھرکم ذمہ داریاں اور ایک نہیں لا تعداد ماتھے پر شکن لائے بغیر عمر بھر نبھاتے نبھاتے ابدی نیند سو جاتی ہے۔
اس عورت کی خوبیاں اس کی طاقت آپ کو گھر میں داخل ہوتے ہی نظر آئے گی۔ گھر کا قرینہ سلیقہ بازاری اشیاء کی بھرمار سے نہیں بلکہ خاتونِ خانہ کے سلیقے سے گھر کو جاذب نظر بناتا ہے ۔
گھر کے افراد کی صحت کی چابی اس کے ہاتھ میں ہے ۔ بچوں کی نگہداشت سے لے کر سسرالی رشتوں سے نبھانا اس کا اہم فرض ہے ۔
یہ صفات ایسی ہیں جن میں قدم قدم پر تحمل برداشت اور تخلیق کے ساتھ تحقیق کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔
پاکستان ایک نیم خواندہ ملک ہے جس میں شرح خواندگی انتہائی نیچے درجے پر ہے مگر اب شعور بڑھ رہا ہے ۔
موجودہ دورمیں امت مسلمہ انتہائی خطرات سے دوچار ہے اس میں کس کا قصور ہے کس کا نہیں اب ان باتوں کو جانچنے کا پرکھنے کا وقت نہیں ہے ۔
حالات جس تیزی سے تبدیل ہو کر امت مسلمہ کے خون سے ہر سرزمین کو لال کرتے جا رہے ہیں
ایسے میں کیا ہونا چاہیے؟
کوئی یہ مت سوچے کہ یہ قتل و غارت گرہ ہم سے دور ہی رہے گی ۔
ہمیں تو پہلے ہی تیار شدہ ایجنڈے کے تحت اسلامی ممالک کی امداد سے دور رکھنے کشمیر کاز سے الگ تھلگ کرنے کیلیۓ کئی دہائیوں سے جنگ میں دھکیل کر اندرون ملک بربادی مقدر کر دی گئی ہے ۔
دنیا بھر میں جس انداز میں قتل عام کر کے آپس کے دو طاقتور دشمن اپنے مشترکہ ہدف مسلمان کی نسل کشی کر رہے ہیں ۔
اس پر اسلامی ممالک کے ،ناخداؤں کو شائد اب ہوش آنے لگا ہے ۔
پاکستان کیلیۓ صرف سپاہی کافی نہیں جو اس کی حفاظت پر معمور ہیں بلکہ اب ہر پاکستانی کی اولین ذمہ داری یہی ہے کہ اپنے آپ کو وطن کا سپاہی سمجھتے ہوئے ہر قسم کے حالات کیلئے خود کو تیار رکھے ۔
یہ وقت اب اس امت کی ماوؤں کی عملی کاوشوں کا ہے ۔
مرد جب سامنے دشمن دکھتا ہے تو مارتا ہے یا مر جاتا ہے ۔ ٌ
عورت خطرناک حالات میں بھی اپنی ممتا کو استعمال کر کے حالات کا تجزیہ ٹھنڈے دل سے کر کے حکمت عملی تیار کرتی ہے ۔
عزیز ماوؤں بہنو بہنو!!
ہم نے عمر گزار دی ٹھنڈے میٹھے جذبوں کی چھاؤں میں مکانوں کو گھر بناتے بناتے ۔
ہم نے اپنے لباس اپنے زیورات اپنے بچوں اور اپنے آرام کو ہمیشہ امت کے مصائب پر فوقیت دی ۔
ہم نے اپنی تمام صلاحیتوں کو اپنے ٹھاٹھ باٹھ پر صرف کر کے ملک کے اندر اسلامی تعلیمات کی بنیاد نہیں ڈالی
بلکہ ایک ایسے کلچر کی بنیاد دال دی جس کی سرپرستی بگڑے ہوئے مغربی سوچ کے حامل افراد کر رہے ہیں۔
مسلمان ماں قانع اور صابر شاکر عورت تھی جو اپنی اولاد کو مل بانٹ کر کھانا سکھاتی تھی ۔
عزیز بہنوں
سوچیں آج جو لباس ہم چند گھنٹوں کیلیۓ محض اپنی ذات کی نمائش کیلیۓ اپنی ہستی کو منفرد بنانے کیلۓ استعمال کر تی ہیں۔ وہ کتنا قیمتی ہے؟
اور
ہمارے زیورات ہماری لگژری کار ہمارے گھر ؟
یہ سارا کائنات کا گھیراؤ در حقیقت عورت کے گرد ہی گھوم رہا ہے ۔
خرچیلی نمائشی سوچ رکھنے والی عورت اسلام کی عورت نہیں ہے۔
ہمارا کردار تو آرائشی مورتیوں کا نہیں تھا؟
نہ ہی کٹھ پتلیوں کا تھا؟
انتہائی ذہین انتہائی نفیس اور اعلیٰ صفات سے مرصع عورت کو آج مردوں نے اپنی شان بڑہانے کیلئے لباس زیور میں ڈبو کر اس کی اصل خوبی کو قتل کر دیا ۔
چھوڑ دیجیے اس نمائشی کلچر کو لباس کے رنگوں سے نہیں نہ ہی اس کے برانڈ سے خود کو نمایاں کریں ۔
امت اس وقت کٹ رہی ہے مر رہی ہے اور عورت کی یہ بے نیازی یہ چشم پوشی مجرمانہ غفلت ہے۔
اٹھیں اور سوچیں اس خوبی کوجو میرے رب نے خاص آپکو دوسروں سے الگ دی ہے ۔
اس کو استعمال کریں اس امت کیلیۓ قوم کیلئے اپنی نسل کی بقاء کیلۓ ۔
لایعنی باتوں اور مشغلوں سے خود کو نکالیں اور کوئی بامقصد کام کر کے باقیات الصٰلحٰت چھوڑ جائیں ۔
اپنی سوچ میں معصوم بچوں کی لاشیں ان کی چیخیں اور بے بس ماں کی سوچ کو جگہ دیں ۔
کشمیر کی کلیاں کس طرح بھنبھوڑی جا رہی ہیں مسلی جا رہی ہیں ۔
اس کا درد ایک عورت سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا ۔
شام میں اکھڑتی سانسوں کی ہچکیاں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی گواہی ہیں۔
ہم کیسے بے خبر لا تعلق رہ سکتے ہیں؟
گھروں کو گھر بنا کر راج کرنے والی لاکھوں گھروں کو کھنڈرات میں تبدیل ہوتے دیکھے۔
اور
در بدر بھٹکتی امت کے مستقبل کو دیکھ کر کیسے اپنی دنیا میں مگن رہ سکتی ہے؟
ہمیں اب جاگنا ہوگا
کیوں؟
اس لئے کہ کلائیوں میں بازو بھر بھر چوڑیاں گلے میں ہار بیش قیمت لباس پہنا کر اس کی صلاحیتوں کو زنگ لگا دیا گیا ۔
اتار پھینکئے
ان ہتھکڑیوں کو جو آپ کی صلاحیتوں کو آپکی سوچوں کو جکڑ کر آپکو تصویر بنا دیں۔
جاگیں
کہ اب اپنی ذات پر خرچ کرتے ہوئے ایک بار سوچنا ہوگا کہ اگر میں اپنی ضرورت کو سادہ کر لوں تو کتنے بچے نشونما پاسکیں گے ؟
کتنے بوڑھے مزید زندہ رہ سکیں گے اس رقم سے جو میں بچاؤں گی ۔
بچا لیجۓ اپنوں کو جن کا کل حساب ہونا ہے ۔
آپس کے حسد نفرت کو کہیں دور دفنا کر اپنی قابلیت اپنی صلاحیت اس دشمن پر خرچ کریں جو آپ کے اپنوں کو مارتا مارتا آپ تک پہنچنے والا ہے ۔
ہمارے معاشروں کو ہیجڑہ پن دے دیا گیا ہے ۔
عورتوں جیسے کپڑے عورتوں جیسے نخرے اور عورتوں جیسے انداز برابری کا یہ تحفہ امت مسلمہ سے سب سے بڑی دشمنی ہے ۔
کوئی شعبہ بھی ہو ملاحذہ کیجیۓ
غیور مومن والا رویّہ کہی دکھائی نہیں دے گا مرد کو کبھی اپنی طاقت پر ناز اور بھروسہ تھا
وہ امت کا معاشرے کا سب سے مضبوط ستون تھا
کب؟
جب اس کی اور گھر والوں کی ضروریات زندگی محدود تھیں اور وہ درست اسلامی طرز معاشرت کا حصہ تھا۔
آج
وہ دولت کے حصول کیلیے ہر شعبہ ہائے زندگی میں بے حساب دولت اکٹھی کرنے کیلئے بنجر سوچ کے ساتھ نسوانی طاقت کا محتاج ہوگیا ۔
زندگی کے ہر شعبہ میں نسوانی بھرمار نے مردوں سے وہ کامیابی اور وہ حاکمانہ رعب ہی ختم کر دیا جو کل تک ان کا خاصہ تھا ۔
آنکھوں سے دیکھا کہ بغیر دوپٹوں کے عورتیں اور ان کے ہمراہ 3 گز کا دوپٹہ کاندھے پر ڈالے 6 فٹ کا آدمی نسوانی انداز لئے مٹک مٹک کے چل رہے ہیں۔
یہ ہمارے محافظ ہیں؟
معاشرے سے اس ہیجڑہ پن کے انداز کو ختم کرنے کیلیۓ اس عورت کو پھر سے جاگنا ہوگا ۔
اور اسلام کے مومن کی ذات کی از سر نو تشکیل کرنا ہوگی ۔
آج
واپس جانا ہوگا عورت کو اپنے اصل کی جانب
پلٹنا ہوگا عورت کو سادگی کی طرف
کب تک یہ کاغذی نمائشی بے مقصد زندگی گزارتی رہے گی؟
ریت جییسی بھربھری آج کی عورت نہیں بلکہ اسی ماں کی طرف جانا ہوگا جو دنیاوی درسگاہوں سے نا آشنا تھی۔
مگر یاد الہیٰ سے دل منور تھاکہ وہ نور اولاد میں اس خوبی سے منتقل کرتی تھی
کہ
کامیابیوں کی عظیم داستانیں اس ماں کے فرزند ارجمند رقم کرتے رہے
اور
دنیا کو سادگی قوت ایمانی شان بہادری بے خوفی کے ساتھ تسخیر کرتے رہے ۔
یہی عورت آج جاگے گی تو پھر سے تعمیر وطن ہوگی تعمیرِ امت ہوگی ۔
مکان کو گھر اور پھر اس کامیاب گھر کی لازمی جزو یہی عورت ہے جس کے بغیر گھر اور گھر والوں کی زندگی کا تصور ہی ناپید ہے ۔ ٌ
وہ پڑہی لکھی ہو یا سادہ دیہاتی عورت بہت طاقتور اور آہنی عزائم کی حامل ہے یہ ہستی ۔
جاگنا ہوگا مجھے
جاگنا ہوگا آپکو
جاگنا ہو گا ہر عورت کو کیونکہ تاریخ آپ کو تاریخی بنا کر نیا زمانہ تشکیل دینا چاہ رہی ہے۔
جاگو جاگو
خود کو پہچانو
امت کی ماں ہو تو آج امت کو بچا لو؟

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر : شاہ بانو میر