دنیا کا غلیظ ترین نظام سود

Benefit

Benefit

تحریر: ڈاکٹر میاں احسان باری
معاشرے میں سود کی جتنی زیادتی ہو گی اتنا ہی افراط زر ، بے روزگاری اور مہنگائی ہو گی چوری ڈکیتی اور کرپشن انتہا پر پہنچ جائے گی قتل و غارت گری عام ہو گی اور پسے ہوئے طبقات کے لو گ سرمایہ داروں کے پیٹ تک پھاڑ ڈالیں گے افرا تفری عام ہو گی اور جو افراد سود کو حرام سمجھتے ہوئے بھی دنیاوی لالچ میں آکر سود پر قرض حاصل کرلیتے ہیں وہ دنیامیں بھی بدترین انجام کو پہنچ جاتے ہیں سور ة البقرہ کے 38 ویں رکوع میں واضح کیا گیا ہے کہ جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ اس طرح اٹھیں گے جیسے کسی جن نے لپٹ کرحواس باختہ اور دیوانہ بنا ڈالا ہو۔دنیا کے لعنتی ترین نظام سود کے خاتمہ کا فیصلہ وفاقی شریعت کورٹ نے 1991 میںسنا دیا تھااور 1999 میں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلنٹ بنچ نے تمام سودی قوانین کو حرام قرار دے کر کالعدم کردیا تھا اور حکومت کو سودی نظام کے خاتمے کے لیے اقدامات کی ہدایت کردی تھی ۔جس پر نواز شریف نے بطور وزیر اعظم اپنے پچھلے دور حکومت میں سپریم کورٹ میںشریعت کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کردی تھی جو کہ آج تک التوا کا شکار چلی آرہی ہے موجودہ ادوار میں عدالتیں مقتدر لوگوں کی باندی تو ہوتی ہیں۔

ایک مرحوم عالم دین نے تو یہاں تک لکھا تھا کہ “عدالتیں بنئیے کی دکان بن چکی ہیں جہاں سے انصاف صرف سرمایہ کے بل پر ہی حاصل کیا جاسکتا ہے”اب تو اس سے بھی معاملہ بڑھا ہو ا لگتا ہے یہ”اس بازار “کی طرح لگتا ہے۔ جس میں بلو رانی اسی کی ہوگی جو زیادہ مال لگا رہا ہو گااب سپریم کورٹ کوکونسی بیماری لگ گئی ہے کہ اس حکومتی اپیل جو کہ سراسر کفریہ نظام کو بچانے کے لیے ہے کا فیصلہ نہیں کر رہی جبکہ اللہ نے واضح فرمادیا کہ تجارت تو حلال ہے جبکہ سود حرام ہے لہٰذا سود کے بارے میں تم میں کوئی بحث نہیں ہو نی چاہیے کہ اس کا جواز گھڑو۔اسی طرح سے بھٹو دور کے جاگیرداروں سے ناجائز زمینیں واپس لے کرجدی پشتی مزراعین و بے زمین کاشتکاروں کوتقسیم کرنے کے فیصلے کے خلاف اس وقت کے اہم جاگیرداروں شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین نے اپیل دائر کر رکھی ہے جس کی وجہ سے زمینوں کونچلے طبقات تک تقسیم کا عمل مکمل طور پر رکا ہوا ہے۔اس طرح سے ظالمانہ نظام ِجاگیرداری اور پلید ترین سرمایہ دارنہ نظام برقرار ہے گا۔تاکہ غریب سر اٹھاکر نہ چل سکیں۔

سیٹیں، وزارتیں صرف ایسے ہی اوباشوں اور ٹھگوں کے ٹولوں کے ہاتھ ہی میں رہیں۔ اور لوگ ایک پارٹی کے ذریعے مال اِدھر اُدھرکرکے بیرون ملک بیلنس بنا کرپھر دوسری پارٹی میں شامل ہو کرلوٹے لٹیرے کہلاتے کہلاتے ہی اسمبلیوں کی سیٹوں اور وزاتوں کو قابو کرلیں۔تاکہ”گلشن کا کاروبار “اسی طرح چلتا رہے ۔انگریزوں کو تحریک آزادی کے وقت مسلمان مجاہدین کوقتل کرکے جن اسلام دشمن افراد نے جتنے سر پیش کیے انہیں اتنے ہی مربع زمین الاٹ ہو گئی تھی۔ یعنی موجودہ جاگیردار، وڈیرے اور ان کی اولادیں اس دور کے انگریزوں کے ناجائزلے پالک بچے ہیں۔سودی نظام کی وجہ سے پاکستان کی ہر حکومت ہر سال قومی بجٹ کا تقریباً ایک تہائی حصہ صر ف سود کی مد میں سامراجیوں کوادا کرنے پر مجبور ہے جب کہ سود کے بارے میں واضح احکامات موجود ہیں کہ سودی کاروبار کرنے والے،اس میں گواہ بننے والے یعنی سود لینے دینے والے اور اس میں امداد کرنے والے اگر 69 دفعہ سگی ماں سے زنا کر لیں تو یہ گناہ سود کے برابر نہیں ہو سکتاسودی کاروبار کا گناہ اس سے بہت زیادہ سنگینی رکھتا ہے سودی کاروبار کرنے والا خدا اور اس کے رسول اکرمۖ کے خلاف براہ راست جنگ میں ملوث ہوتا ہے مطلب یہ ہوا کہ جو شخص بھی ان کے خلاف جنگ کررہا ہو گاوہ شخص اپنے دشمنوں نعوذبااللہ خدا اور اس کے رسول اکرمۖکے ہر حکم کے خلاف اپنے تئیںگستاخانہ عمل کر رہا ہوگا۔

Jewish

Jewish

اس کا یہ سارا عمل صہیونیوں اور یہودیوں سے بھی بدتر قرار پائے گا دراصل سود سے غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا چلا جاتا ہے اسی لیے ہی اس کا لینا دینا حرام قرار پایا ہے۔ نواز شریف صاحب سے قبل بھی جو اصحاب اسلام دشمنی اور ملک دشمنی کے چمپئن تھے ،وہ فوجی سربراہ تھے یا سویلین کی ا موات شرمناک ، عبرت ناک اور خوفناک ترین رہی ہیں۔یحییٰ خان،مجیب الرحمٰن ،اندراگاندھی ،بھٹواور ضیاء الحق کے حشر کو دیکھ کرہمیں تاریخی سبق نہیں بھولنا چاہیے تھا مگر چونکہ وہ قول تو یا د ہو گاکہ ہر سرمایہ کے پیچھے ایک دھاندلی ہوتی ہے تو اب دھاندلی زدہ الیکشنوں کے ذریعے برسر اقتدار حکمران خواہ وہ مرکز میں مقتدر ہوں یا پنجاب ،سندھ اورکے پی کے میں سبھی اپنے حشر سے ڈریں۔ اور دہشت گردی، بھتہ خوری اوربوری بند لاشوں کے “تحفوں ” کی وجہ سے توپاکستان دنیا کا خطرناک ترین ملک بن چکا ہے کہ ہم سود کی لعنت کی وجہ سے خدا کی رحمتوں سے محروم ہیں۔ کہ جس جگہ وزمین پرافراد (وہی بات دہرانا چاہتا ہوں)سگی ماں سے 69 دفعہ زنا کرنے سے بڑا گناہ کر رہے ہوں وہاں ایسی پلید ترین زمین پررحمت کافرشتہ کیسے اتر سکتا ہے ؟ہم نے سارا کچھ سمجھتے ہوئے بھی کافرانہ سودی نظام کو گلے لگا رکھا ہے۔

اس طرح خدا تعالیٰ کی خوشنودیوں اور رحمتوں سے محروم ہو چکے ہیں ان حالات میں مغربی آقائوں کی خوشنودی ترک کرکے اور اللہ کے قوانین کا اصل اسپرٹ میں نفاذ کرنا نیز سنگین جرائم اور سودی کاروبار میں ملوث افراد کونشان عبرت بنا کرہی امن و امان قائم ہوسکتا ہے۔ سودی پلید ترین نظام کا قلاوہ جو ہم نے گلے میں ڈال رکھا ہے اس کی وجہ سے ہم تقریباً ساڑھے اٹھارہ ٹریلین روپوں کی مقروض قوم بن چکے ہیں۔ اورہماری حکمران اشرافیہ خزانہ پر سانپ بنی بیٹھی ہے۔ غیر ضروری اور فضول کاموں پر خزانہ لٹایا جارہا ہے۔ جبکہ حکمران موجودہ ہوں یاسابقہ نے کھربوںڈالرباہرکے بینکوں میں”برے وقت” کے لیے رکھ چھوڑے ہیں۔ خود محصولات اور ٹیکس نہیں دیتے۔ اس دفعہ اگر خدا نخواستہ ہمارے موجودہ نام نہاد سیاستدانوں کی غلاظتیں کسی اور جگہ جمع ہو کر نئی سرخی پائوڈر اور غاز ے مَل کر عوام کودھوکہ دینے میں کامیاب ہو گئیں۔ تو پھر ملک کا خدا ہی حافظ ہو گاخطرات سر پر منڈ لارہے ہیں۔ کراچی بلو چستان اور کے پی کے کے سرحدی علاقوں میں تو ڈنڈا راج قائم ہے۔

مگر یہ علاقے مافیا ز کے کنٹرول میں ہی ہیں ۔ لوگوں کی زندگیوں کوہر قیمت پرمحفوظ بناکر اورمہنگائی بے روز گاری ختم کرکے ہی پاکستان کو جمہوری فلاحی مملکت بنا یا جاسکتا ہے۔ یمنی جنگ پورے عالم اسلام کو لپیٹ میں لیتی نظر آرہی ہے۔ اور ہمارے حکمران بروقت صحیح اقدام نہ کرنے کی وجہ سے مملکت کو خارجہ امور میں تنہائی کاشکار کرتے ہوئے نظر آتے ہیںہم کسی بھی آمدہ برے وقت میں مالی پریشانیوں سے دو چار ہوئے تو ہمارے ساتھ کون کھڑا ہو گا؟سودی نظام کو مکمل ترک کرکے ہی ہم قرضوں سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں۔ مگر اس کے لیے جرآت رندانہ کی ضرورت ہو گی جس کا ہمارے موجودہ برسر اقتدار اور اپوزیشنی سیاستدانوں میںفقدان نظر آتا ہے ۔صرف اللہ اکبر تحریک ہی ان حالات میں عالم اسلام اور تمام مسالک کے افراد کو متحد کرنے اور مہنگائی ، بے روز گاری ، بد امنی کو ختم کرنے کی اہلیت رکھتی ہے نیز سودی نظام کو ختم کرکے اسلام کا معاشی نظام نافذ کرڈالے گی تاکہ سرزمین پاکستان اور پھر پورے عالم اسلام پر خدا کی رحمتوں کی بارشیںخوب برستی رہیں۔

Dr Mian Ehsan Bari

Dr Mian Ehsan Bari

تحریر: ڈاکٹر میاں احسان باری