**آئی پی پیز معاہدوں پر نظر ثانی: 137 ارب روپے کی سالانہ بچت کا دعویٰ، لیکن بجلی کے بلوں میں کتنی کمی آئے گی؟**
وفاقی حکومت نے ملک میں بجلی پیدا کرنے والے 14 انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے سالانہ 137 ارب روپے کی بچت کا دعویٰ کیا ہے۔ حکومتی اعلامیے کے مطابق، ان 14 پاور پلانٹس میں سے چار 1994 کی پاور پالیسی اور دس 2002 کی پاور پالیسی کے تحت قائم ہوئے ہیں۔
یہ عمل گزشتہ سال اکتوبر میں شروع ہوا تھا، جب پہلی بار پانچ آئی پی پیز کے ساتھ پرانے معاہدوں کو ختم کر کے نئے معاہدوں کی منظوری دی گئی تھی۔ اس کے بعد دسمبر میں بیگاس (گنے کے پھوک) سے بجلی پیدا کرنے والے آٹھ آئی پی پیز کے ساتھ بھی معاہدوں پر نظر ثانی کی گئی۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں منگل کو جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق، 14 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی سے قومی خزانے کو کیپسٹی پیمنٹ کی مد میں 137 ارب روپے کی سالانہ بچت ہو گی، جس سے صارفین کے بجلی کے بلوں میں کمی واقع ہو گی۔ اس فیصلے کے بعد اب ملک میں ایسے آئی پی پیز کی تعداد 27 ہو چکی ہے، جن کے ساتھ حکومت نے نئے معاہدے کیے ہیں۔
تاہم، ماہرین کے مطابق، گزشتہ معاہدوں پر نظر ثانی کے بعد بجلی کے بلوں میں کوئی خاص کمی نہیں آئی۔ اکتوبر 2024 میں پانچ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کے بعد بجلی کے بل میں صرف 70 پیسے فی یونٹ کمی کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ دسمبر میں بیگاس پر چلنے والے آٹھ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کے بعد بھی بجلی کے بلوں میں کوئی خاص کمی نہیں ہوئی، کیونکہ ان پلانٹس کی پیداواری صلاحیت مجموعی پیداوار میں بہت کم ہے۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس میں توانائی کی ماہر عافیہ ملک کے مطابق، بیگاس پر چلنے والے پلانٹس کی پیداواری صلاحیت صرف 259 میگاواٹ ہے، جو ملک کی مجموعی پیداوار میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر اور دسمبر میں ہونے والے معاہدوں پر نظر ثانی کے بعد بجلی کے بلوں میں مجموعی طور پر صرف ایک روپیہ فی یونٹ کمی کا امکان ہے۔
آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر گزشتہ برسوں میں شدید تنقید کی گئی ہے، جس میں ان معاہدوں کو بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ ان معاہدوں کے تحت حکومت نے ’ٹیک یا پے‘ کی ضمانت دی تھی، جس کے مطابق حکومت بجلی خریدے یا نہ خریدے، اس کی ادائیگی کرنے کی پابند تھی۔ یہ ضمانت کمپنیوں کو بیرونی اور اندرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے درکار تھی۔
حکومتی ادارے پرائیوٹ پاور انفراسٹرکچر بورڈ کے مطابق، ملک میں اس وقت 101 آئی پی پیز کام کر رہے ہیں، جن میں فرنس آئل، گیس، آر ایل این جی، پانی، کوئلہ، بیگاس، شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس شامل ہیں۔ عافیہ ملک کے مطابق، ان میں حکومتی پاور پلانٹس بھی شامل ہیں، جو پانی اور نیوکلئیر ذرائع سے بجلی پیدا کرتے ہیں۔
وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اب ان معاہدوں کو نیشنل الیکٹرک ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو بھیجا جائے گا، جو نئے بجلی کے ٹیرف بنائے گی۔ اس کے بعد ان کمپنیوں کے لیے نئے پاور ٹیرف کا اطلاق ہو جائے گا۔
کیپسٹی پیمنٹ کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ادائیگی بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو ان کی پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے کی جاتی ہے، چاہے بجلی کی مانگ ہو یا نہ ہو۔ وزیر اعظم کے کور آرڈینیٹر رانا احسان افضل کے مطابق، پرانے معاہدوں میں ’ٹیک یا پے‘ کی شرط تھی، جبکہ نئے معاہدوں میں ’ٹیک اور پے‘ کی شرط ہو گی، یعنی حکومت صرف خریدی گئی بجلی کی قیمت ادا کرے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کا یہ اقدام فیس سیونگ کے لیے اٹھایا گیا ہے، لیکن اس سے صارفین کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا۔
