ترکیہ گرینڈ نیشنل اسمبلی کے اسپیکر نعمان قرتولمش نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اسرائیل کے غزہ میں کیے گئے قتل و غارت کا ضرور احتساب ہوگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ غاصب صیہونی حکومت کو مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
استنبول میں باب علی اجلاس کے تحت “نئے عالمی نظام کی تلاش اور ترکیہ کا کردار” کے عنوان سے منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے قرتولمش نے کہا کہ غزہ میں جاری انسانی المیے کے خلاف دنیا بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے بین الاقوامی عدالت انصاف اور دیگر عدالتوں کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا، “انسانی حقوق کے محاذ پر ہر احتجاجی مظاہرہ اور فلسطین کی آزادی کے حق میں اٹھایا گیا ہر نعرہ بین الاقوامی عدالتوں کو متحرک کر رہا ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ نیتن یاہو اور اس کے حامیوں کے اچھے دن ختم ہو چکے ہیں۔ انہیں حقائق کا سامنا کرنا پڑے گا۔”
قرتولمش نے مزید کہا کہ دنیا میں تیزی سے بڑھتے ہوئے تضادات اور تنازعات کا ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “ایک طرف انصاف کا دفاع کرنے والے ہوں گے اور دوسری طرف ظلم کو برقرار رکھنے والے۔ ان دونوں کے درمیان جدوجہد اور تضادات واضح ہوں گے۔ انسانی حقوق کے محاذ پر انصاف کے لیے کھڑے ہونے والوں کی یکجہتی نے ایک ٹھوس مثال قائم کی ہے۔ ہم فلسطینی عوام کے حق کی حمایت صرف اسی صورت میں کر سکتے ہیں جب ان کا انصاف کا جذبہ بلند ہو۔”
ترک اسپیکر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلسطین کے مسئلے پر دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی یکجہتی اور احتجاجی مظاہروں نے بین الاقوامی برادری کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اسرائیلی مظالم کے خلاف موثر اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ ہمیشہ سے انصاف اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑا رہا ہے اور مستقبل میں بھی فلسطینی عوام کے حق میں اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے اسرائیل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ قرتولمش کے الفاظ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ترکیہ نہ صرف فلسطین کے مسئلے پر اپنی پوزیشن واضح رکھے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے بھی کوششیں جاری رکھے گا۔
