پشاور: اسلام آباد میں ہونے والے دھرنے کے دوران کنٹینرز، گاڑیوں اور ساؤنڈ سسٹم کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ ذرائع کے مطابق، 4 اکتوبر 2024 کو اسلام آباد بھیجے گئے بلٹ پروف کنٹینر سے سامان اتار لیا گیا تھا۔ کنٹینر کو اتارنے کے بعد گاڑی اور دیگر دو گاڑیاں چار ماہ بعد واپس کر دی گئیں، جبکہ 24 نومبر کو بلٹ پروف کنٹینر کو اسلام آباد میں جلا دیا گیا یا غائب کر دیا گیا، جس سے بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے نجی ٹھیکیداروں کو کروڑوں روپے کا معاوضہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نجی ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ وہ نقصانات کے معاوضے کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس کے چکر لگا رہے ہیں، لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود اب تک ان کے نقصانات کا ازالہ نہیں کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ترجمان فراز مغل نے پشاور میں جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ٹھیکیداروں نے نقصانات کا تخمینہ 10 کروڑ روپے لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور یہ رقم اپنی جیب سے ادا کریں گے۔
یہ واقعات اس وقت سامنے آئے ہیں جب دھرنا سیاست کے نتیجے میں ملک اور قوم کو بے پناہ نقصان پہنچا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی دھرنا سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے ملک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا یہ اقدام نجی ٹھیکیداروں کے نقصانات کو پورا کرنے میں کامیاب ہوگا یا نہیں۔ تاہم، اس معاملے نے ایک بار پھر دھرنا سیاست کے منفی اثرات کو اجاگر کر دیا ہے۔
