اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر اسی عدالت کے تین سینیئر ججز میں سے کیا جائے۔ ججز نے یہ خط لاہور ہائیکورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو بھی ارسال کیا ہے۔
خط میں جسٹس محسن اختر کیانی سمیت دیگر ججز نے واضح کیا ہے کہ دوسری ہائیکورٹ سے جج لانے کے بجائے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر ججز میں سے ہی چیف جسٹس کا انتخاب کیا جائے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دوسری ہائیکورٹ سے جج لانے کے لیے بامعنی مشاورت اور واضح وجوہات پیش کرنا ضروری ہیں۔
ججز نے خط میں یہ بھی نشاندہی کی کہ لاہور ہائیکورٹ میں زیر التوا کیسز کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہے، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی سینیارٹی کیسے تبدیل ہو سکتی ہے؟ خط میں میڈیا میں لاہور ہائیکورٹ سے جج کے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تبادلے کی خبروں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
خط کے مطابق، بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے بھی یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ سے ایک جج کو ٹرانسفر کیا جانا ہے، جسے بعد میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر زیر غور لایا جائے گا۔ اسی طرح سندھ ہائیکورٹ سے بھی ایک جج کے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تبادلے کی تجویز زیر غور ہے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک ہائیکورٹ سے دوسری ہائیکورٹ میں ججز کا تبادلہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت ہوتا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ججز کی جانب سے صدر پاکستان کو بھی خط کی کاپی ارسال کی گئی ہے۔
یہ خط عدالتی نظام میں شفافیت اور سینیارٹی کے اصولوں کو برقرار رکھنے کے لیے اہم اقدام سمجھا جا رہا ہے۔ ججز کا یہ مطالبہ عدالتی انتظامیہ کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ تقررات کے عمل میں شفافیت اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے۔
