واشنگٹن – امریکہ نے جدید اور طاقتور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) چپس کی برآمد پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ پابندیاں امریکہ کے قریبی شراکت دار ممالک کی کمپنیوں پر لاگو نہیں ہوں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا مقصد امریکی سلامتی کو محفوظ بنانا ہے۔ چین نے پابندیوں کو بین الاقوامی تجارتی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
بائیڈن انتظامیہ نے جدید ترین AI مائیکروپراسیسرز کی برآمد، اور ان کے ملکیت اور صارفین کے ساتھ انٹرفیس کرنے کے طریقوں پر نئے ضوابط کا اعلان کیا ہے۔ انہیں عام طور پر چپس کہا جاتا ہے۔
یہ ضوابط عوامی تبصرے اور ردعمل کے لیے 120 دنوں کے لیے جاری کیے جائیں گے۔ امریکی انتظامیہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے نئے ضوابط ضروری ہیں۔
اعلان کردہ ضوابط اس بات کی بھی وضاحت کرتے ہیں کہ کس طرح قابل اعتماد شراکت دار ممالک کی کمپنیاں اس ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں تاکہ اختراع کو فروغ دیا جا سکے۔
کامرس کی وزیر جینا ریمونڈو نے صحافیوں کو بتایا، “آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا نفاذ آنے والے سالوں میں واقعی دنیا بھر میں ہر صنعت، ہر کاروباری عمل، ہر جگہ ہونے جا رہا ہے، کیونکہ اس میں پیداوار بڑھانے، سماجی بہبود، صحت کی دیکھ بھال، اور اقتصادی فوائد کو بڑھانے کی بے پناہ صلاحیت ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، “جیسا کہ کہا گیا ہے، جیسے جیسے AI چپس زیادہ طاقتور ہوتی جائیں گی، ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرات بھی بڑھتے جائیں گے۔”
**جن ممالک پر پابندیاں لاگو نہیں ہوں گی**
انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ نئے ضوابط آسٹریلیا، بیلجیم، کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، جاپان، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ، ناروے، جنوبی کوریا، اسپین، سویڈن، تائیوان، برطانیہ یا امریکہ پر AI چپس کی فروخت پر پابندیاں لاگو نہیں کریں گے۔
وہ ممالک جو پہلے ہی امریکی ہتھیاروں کی پابندیوں کے تابع ہیں، وہ پہلے سے ہی جدید AI چپس کی پابندیوں کے تابع ہیں، اور اب ان پر طاقتور بند ویٹ AI ماڈلز حاصل کرنے پر بھی پابندیاں عائد ہوں گی۔
**بند ویٹ AI ماڈلز کیا ہیں؟**
نیشنل ٹیلی کمیونیکیشنز اینڈ انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ بند ویٹ AI ماڈلز میں، ویٹس خود یہ طے کرتے ہیں کہ وہ صارف کے بھیجے ہوئے مواد کو کس طرح پراسیس کرتے ہیں اور اسے کیا جواب دیتے ہیں۔
بند ویٹ AI چپس میں، پراسیسنگ کے قواعد اور طریقے خفیہ ہوتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس، اوپن ویٹ سسٹم کی چپس میں، صارف یہ دیکھ سکتا ہے کہ چپ کس طریقہ کار کا استعمال کر کے دیے گئے مواد سے جواب تیار کرتی ہے۔
انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ امریکہ کے قریبی شراکت دار یا جو ممالک ہتھیاروں کی پابندیوں کے تابع نہیں ہیں، ان میں سے زیادہ تر کو جدید AI چپس حاصل کرنے کے لیے لائسنس پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، بشرطیکہ ان کے پاس موثر سیکیورٹی اقدامات ہوں۔
ان ممالک کے حوالے سے، عہدیدار نے کہا، “ہمارے کچھ قریبی اتحادیوں کے پاس بہت موثر سیکیورٹی اقدامات ہیں اور ان کے پاس AI ٹیکنالوجی کے تحفظ کا دستاویزی ریکارڈ ہے جو ہماری قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات پر پورا اترتا ہے۔”
نئے ضوابط 2023 میں نافذ کردہ پابندیوں پر مبنی ہیں جو چین کو مخصوص قسم کی AI چپس کی برآمد تک محدود کرتی ہیں۔
**چین کا ردعمل**
بیجنگ نے امریکہ کے اس نئے حکم نامے کو بین الاقوامی تجارتی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
چین کی وزارت تجارت نے کہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کا اعلان برآمدی کنٹرول کے غلط استعمال کی ایک اور مثال ہے اور بین الاقوامی کثیرالجہتی اقتصادی اور تجارتی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
بیجنگ کا مزید کہنا تھا کہ وہ اپنے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
