پاکستانی حکومت اور فوج نے بھارت کے حالیہ بیانات کو علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ دوسروں پر بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے اپنے اعمال کا جائزہ لے، خاص طور پر غیر ملکی سرزمینوں پر ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے حوالے سے۔
بدھ کے روز پاکستانی دفتر خارجہ اور فوج دونوں نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی کے بیانات کو “سیاسی طور پر محرک” اور “غلط” قرار دیا۔ دفتر خارجہ نے بھارتی الزامات کو ستم ظریفی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی اپنی دستاویزی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ غیر ملکی سرزمینوں پر ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔
بھارتی وزیر دفاع اور فوجی سربراہ نے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اپنے زیر انتظام کشمیر کے علاقوں کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے اس پر کہا کہ بھارت کو دوسروں پر الزامات لگانے کے بجائے اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے، خاص طور پر ٹارگٹڈ قتل اور تخریب کاری کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے حوالے سے۔
دفتر خارجہ نے جموں و کشمیر کو “بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی حتمی حیثیت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ پاکستان نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جابرانہ اقدامات کا نوٹس لے۔
پاکستانی فوج کی میڈیا ونگ آئی ایس پی آر نے بھارتی فوجی سربراہ کے دعووں کو “انتہائی دوغلے پن کا کلاسک کیس” قرار دیا۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت اپنے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارتی آرمی چیف کا پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز قرار دینا نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ بھارت کی جانب سے مردہ گھوڑے کو مارنے کی کوشش ہے۔
پاکستانی فوج نے بھارت کی جانب سے ٹارگٹڈ قتل اور ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی سمیت بین الاقوامی سطح کے جبر کو بھی اجاگر کیا۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایک حاضر سروس بھارتی فوجی افسر کلبھوشن جادھو پاکستان میں دہشت گردی میں کردار ادا کرنے کی وجہ سے پاکستانی حراست میں ہیں۔
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سرزمین دہشت گردی کے خطرناک کاروبار کو چلانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان کو اپنی “نفرت انگیز کارروائیوں” کو روکنے کی ہدایت کی تھی۔ بھارتی آرمی چیف نے بھی پاکستان کو “دہشت گردی کا مرکز” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر میں سرگرم 80 فیصد عسکریت پسند پاکستانی ہیں۔
پاکستان نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جابرانہ اقدامات کا نوٹس لے۔ پاکستانی دفتر خارجہ اور فوج دونوں نے کہا کہ بھارت کے پاس آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان پر فرضی دعوے کرنے کی کوئی قانونی یا اخلاقی بنیاد نہیں ہے۔
یہ تنازعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب بھارت نے کشمیر سے لداخ تک سُرنگیں تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جسے پاکستان نے علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ پاکستان نے بھارت کے بیانات کو علاقائی استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔
