ترکی کے وسطی علاقے میں واقع ایک اسکی ریسورٹ میں ہوٹل میں لگنے والی آگ سے 66 افراد ہلاک اور 51 زخمی ہو گئے ہیں۔ وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے بتایا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور ٹھنڈا کرنے کے عمل جاری ہیں۔
وزیر داخلہ کے مطابق، آگ رات 3 بج کر 27 منٹ پر لگی، جب 12 منزلہ گرینڈ کارتال ہوٹل میں 238 مہمان موجود تھے۔ یہ ہوٹل انقرہ سے 170 کلومیٹر مشرق میں واقع کارتالکایا اسکی ریسورٹ میں واقع ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق، ہوٹل کی بیرونی لکڑی کی دیواروں کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیل گئی۔
انادولو ایجنسی کی جاری کردہ ہوائی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہوٹل کی اوپری منزلوں اور چھت سے بڑی بڑی شعلے اور سیاہ دھواں نکل رہا تھا۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ 428 فائر فائٹرز نے صبح 4 بج کر 15 منٹ پر موقع پر پہنچ کر آگ بجھانے کی کوشش کی، لیکن ہوٹل کی بلند مقام پر ہونے کی وجہ سے آپریشن میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
آگ لگنے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ وزیر انصاف یلماز ٹنک نے بتایا کہ ہوٹل کے مالک سمیت چار افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
کچھ زندہ بچ جانے والوں نے ہوٹل میں حفاظتی انتظامات کی کمی پر تنقید کی۔ ایک پچاس سالہ شخص نے ٹی وی پر بتایا کہ “کوئی الارم نہیں بجا، نہ کوئی دھواں پکڑنے والا آلہ تھا، نہ ہی کوئی ایمرجنسی سیڑھیاں تھیں، حالانکہ دسویں منزل تک دھواں پھیل چکا تھا۔”
یہ واقعہ ترکی میں حفاظتی اقدامات پر سوالات اٹھا رہا ہے، جبکہ متاثرین کے لواحقین اور زندہ بچ جانے والوں میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
