ایک 44 سالہ شخص کو فرانس کے زیر زمین ریلوے (میٹرو)، بس اور RER میں 2019 سے 2024 کے درمیان جنسی حملوں کے سلسلے کے الزام میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس شخص کا طریقہ کار ہر بار ایک جیسا تھا، جس کی نشاندہی متعدد خواتین نے کی۔ 2010 کی ایک شکایت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر مزید متاثرین ہیں جنہوں نے شکایت درج نہیں کرائی۔
اس شخص کے خلاف سات خواتین نے شکایات درج کیں، لیکن سوال یہ ہے کہ 2010 سے اب تک اس نے کتنے لوگوں کو نشانہ بنایا ہوگا؟ یہ سوال اس کے مقدمے کے دوران بار بار اٹھایا گیا۔ مصر سے تعلق رکھنے والے اس شخص، جس کی جسمانی ساخت مضبوط، بال بھورے اور داڑھی باریک ہے، کو دسمبر میں پیرس کے ٹروکاڈیرو اسٹیشن پر گرفتار کیا گیا تھا۔ جمعرات کو اسے پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی، جو اس جرم کے لیے زیادہ سے زیادہ سزا ہے۔
اس شخص کی شناخت ایک 25 سالہ نوجوان خاتون نے ممکن بنائی۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ RER میں چاٹیلیٹ سے گارے ڈو نارڈ کے درمیان سفر کر رہی تھیں۔ گاڑی میں بھیڑ تھی، اور اچانک انہیں احساس ہوا کہ ان کے پاس کھڑا شخص انہیں چھو رہا ہے۔ خاتون نے اس کا ہاتھ دھکیل دیا اور پوچھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ اس شخص نے جواب دیا کہ وہ فرانسیسی نہیں بولتا اور وہاں سے بھاگ نکلا۔ خاتون نے اس کا پیچھا کیا اور سیکیورٹی اہلکاروں کو خبردار کیا۔
یہ واقعہ صرف ایک مثال ہے۔ دیگر متاثرین نے بھی عدالت میں بتایا کہ اس شخص کا طریقہ کار ہمیشہ ایک جیسا تھا: وہ بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر خواتین کے قریب کھڑا ہوتا، ان سے رگڑتا اور ان پر جنسی حرکتوں میں ملوث ہوتا۔
عدالت نے اس شخص کے خلاف تمام شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے پانچ سال قید کی سزا سنائی۔ تاہم، یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کے متعدد دیگر متاثرین ہو سکتے ہیں جنہوں نے شکایت درج نہیں کرائی۔ 2010 کی ایک شکایت سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس شخص نے طویل عرصے سے ایسے جرائم کا ارتکاب کیا ہوگا۔
اس مقدمے نے معاشرے میں جنسی تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ متاثرین کی بہادری نے نہ صرف اس مجرم کو سزا دلائی بلکہ دیگر خواتین کو بھی ایسے واقعات کی اطلاع دینے کی ترغیب دی ہے۔
