رائن ائیر، جو ایک کم خرچ ایرلائن ہے، نے اپنی گرمیوں کی پروگرامنگ میں 12 راستے اور 8 لاکھ سیٹس کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی نے اسپین کے دو ہوائی اڈوں سے اپنی پروازیں مکمل طور پر بند کر دی ہیں جبکہ پانچ دیگر ہوائی اڈوں پر پروازیں کم کر دی گئی ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اسپین کے ہوائی اڈوں کے انتظامی ادارے ائینا کی “ضرورت سے زیادہ فیسز” اور “ناکافی مراعات” کی وجہ سے کیا گیا ہے۔
رائن ائیر کے چیف ایگزیکٹو ایڈی ولسن نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ائینا کی پالیسیاں “غیر موثر” ہیں اور اسپین کی حکومت کے مقاصد کے مطابق نہیں ہیں، جو علاقائی ہوائی اڈوں پر زیادہ ٹریفک لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ولسن نے کہا کہ ائینا کی زیادہ فیسز اور ناکافی مراعات علاقائی ہوائی اڈوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں، جس سے ان کی ترقی محدود ہو رہی ہے۔
رائن ائیر نے جیریز (کیڈز) اور ویلاڈولڈ کے ہوائی اڈوں سے اپنی پروازیں مکمل طور پر بند کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ، سینٹیاگو ڈی کمپوسٹیلا میں ایک طیارہ واپس لے لیا گیا ہے اور ویگو، سینٹیاگو، زاراگوزا، آسٹوریاس اور سینٹینڈر میں پروازیں کم کر دی گئی ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ نقصان “مکمل طور پر قابلِ تلافی” تھا۔
رائن ائیر نے اپنی صلاحیت کو علاقائی ہوائی اڈوں پر اگلی گرمیوں کی سیزن میں 18 فیصد تک کم کر دیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اسپین کے علاقائی ہوائی اڈے یورپ کے دیگر ہوائی اڈوں کے مقابلے میں کم مسابقتی ہیں، جس کی وجہ سے ٹریفک کو سویڈن، کروشیا، ہنگری اور مراکش جیسے مقامات پر منتقل کرنا پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب، ائینا نے رائن ائیر کے دعووں کو “غلط” قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی کے مطالبات غیر قانونی ہو سکتے ہیں۔ ائینا کا کہنا ہے کہ علاقائی ہوائی اڈوں کے لیے مراعات موجود ہیں، جہاں ہوائی اڈوں کی فیسز تقریباً 2 یورو فی مسافر ہیں۔ ائینا نے رائن ائیر پر الزام لگایا کہ وہ بڑے ہوائی اڈوں میں ترقی کر رہی ہے، جہاں فیسز میں کوئی چھوٹ نہیں ہے۔
رائن ائیر کے چیف ایگزیکٹو ایڈی ولسن نے اسپین کی حکومت کی جانب سے کمپنی پر لگائی گئی جرمانے کی بھی تنقید کی ہے، جو کہ 107 ملین یورو ہے۔ ولسن نے اسے “احمقانہ فیصلہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام یورپی سطح پر ناکام ہو جائے گا، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو ٹکٹوں کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔
رائن ائیر کے اس فیصلے کے بعد اسپین کے کئی علاقوں میں ہوائی سفر کے مواقع کم ہو جائیں گے، جس سے مقامی سیاحت اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
