سرائے عالمگیر میں چار سالہ زہرہ کا ریپ اور قتل: 77 سیکنڈ کی آڈیو اور کنڈی کے کھٹکے کی آواز سے ملزم تک پہنچنے کا سفر
وسطی پنجاب کے ضلع گجرات کے گاؤں کھوہار میں چار سالہ زہرہ جنید کے ریپ اور قتل کا واقعہ پانچ جنوری کو پیش آیا تھا۔ زہرہ اپنے گھر سے قریب واقع اپنی خالہ کے گھر جانے کے لیے نکلی تھی، لیکن وہ وہاں پہنچنے سے پہلے ہی غائب ہو گئی۔ اگلے روز محلے کے ایک غیر آباد گھر سے اس کی بوری میں بند لاش ملی۔ پولیس نے 11 روز کی محنت کے بعد ڈی این اے میچ ہونے پر ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
تھانہ صدر سرائے عالمگیر پولیس نے مقتولہ کے والد کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ تحقیقات کے دوران پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے ماہرین نے جائے وقوعہ اور اس کے اردگرد سے ڈی این اے نمونے اور دیگر شواہد اکٹھے کیے۔ پولیس کے مطابق 73 مختلف جگہوں سے ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے گئے، جن میں سے 24 جگہوں پر انسانی ڈی این اے کے نشانات پائے گئے۔ ان شواہد کی بنیاد پر پانچ مشکوک افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے تین کے پولی گرافک ٹیسٹ بھی کیے گئے۔
پولیس کو اس مقدمے میں ملزم تک پہنچنے میں سی سی ٹی وی فوٹیج کی 77 سیکنڈ کی آڈیو نے اہم کردار ادا کیا۔ فوٹیج میں تین بج کر سات منٹ پر زہرہ کیمرے کی آنکھ سے اوجھل ہوتی دکھائی دی، جبکہ 77 سیکنڈ بعد اس کی چیخ سنائی دی۔ زہرہ چیخ رہی تھی، “چاچو۔۔۔ چاچو نہیں جانا۔۔۔ نہیں جاؤں گی۔” اس کے بعد کنڈی کے کھٹکے کی آواز بھی ریکارڈ ہوئی۔
پولیس نے اسی عمر کے ایک مقامی بچے کو اس مقام سے 77 سیکنڈ تک چلایا، جہاں سے زہرہ کیمرے کی آنکھ سے اوجھل ہوئی تھی۔ ڈی ایس پی گجرات سٹی عامر عباس شیرازی کے مطابق، “وہ بچہ جس دروازے پر رکا، وہ ملزم کا دروازہ تھا۔” تاہم، اسی گھر کے سامنے ایک اور گھر بھی موجود تھا۔ پولیس نے دونوں گھروں کے دروازوں کی کنڈیوں کی آوازوں کا سی سی ٹی وی میں موجود آواز سے موازنہ کیا۔ ملزم کے دروازے کی وزنی آواز ریکارڈڈ آڈیو سے مل گئی، جبکہ دوسرے دروازے کی آواز نہیں ملی۔
ملزم نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ وقوعہ کے وقت ایک دکان پر گیا ہوا تھا، لیکن دکان کے سی سی ٹی وی فوٹیج میں وہ موجود نہیں تھا۔ ڈی ایس پی کے مطابق، “ملزم اس وقت گھر میں اکیلا تھا، اور اس کا موبائل اس دوران استعمال ہی نہیں ہوا۔” پولیس کو جس غیر آباد جگہ سے زہرہ کی لاش ملی تھی، وہ ملزم کے گھر کی دیوار سے ملحقہ تھی۔ ملزم نے بچی کی لاش کو بوری میں بند کر کے ایک خالی گھر میں چھت سے نیچے پھینک دی تھی۔
پولیس کے مطابق، “جس قسم کی بوری سے ہمیں بچی کی لاش ملی، وہ ملزم کے گھر پر بھی موجود تھی۔” پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی میں پولی گرافک ٹیسٹ کے دوران ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے ساری کہانی بتائی۔
زہرہ کی والدہ صبا جنید اس واقعے کے بعد سے سنبھل نہیں پائی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا، “زہرہ ہماری زندگی ویران کر کے چلی گئی۔ بس ہماری بیٹی کو انصاف ملے اور ایسا کہ کوئی دوبارہ ایسی حرکت کرنے کی جرات نہ کرے۔”
زہرہ کے والد جنید اقبال بیرون ملک رہتے ہیں اور ان دنوں پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ صبا کا کہنا ہے کہ زہرہ نے انھیں ضد کر کے بلایا تھا۔ “میری بچی شادی کے 13 سال بعد پیدا ہوئی تھی۔ میں نے اللہ سے رو، رو کر بیٹی کی دعا کی تھی۔ وہ ہم سب کو بہت زیادہ پیاری تھی۔”
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق زہرہ کے چہرے، سر کے پچھلے حصے، کمر اور وجائنا پر زخموں کے نشانات ہیں۔ پولیس نے مقدمے میں قتلِ عمد اور ریپ کے الزامات شامل کیے ہیں۔ ملزم کو کل مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
