ڈیووس کے عالمی اقتصادی فورم میں اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے سوشل میڈیا کے مالکان کو ان کے پلیٹ فارمز پر شائع ہونے والے مواد کی قانونی ذمہ داری قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “ٹیکنو ملینیرز کا ایک چھوٹا گروہ” نہ صرف معاشی طاقت حاصل کرنا چاہتا ہے بلکہ سیاسی طاقت پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سانچیز نے ٹرمپ کے مشہور نعرے “ہمیں امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانا ہے” کو اپناتے ہوئے کہا کہ “ہمیں سوشل میڈیا کو دوبارہ عظیم بنانا ہے”۔
سانچیز نے ڈیووس میں اپنے خطاب میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے مالکان پر سخت تنقید کی اور انہیں جمہوریت کو زہر آلود کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ نفرت انگیز تقریریں زیادہ منافع بخش ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ یہ پلیٹ فارمز ایسے مواد کو فروغ دیتے ہیں۔ وزیراعظم نے تین اہم تجاویز پیش کیں جو یورپی یونین کونسل میں پیش کی جائیں گی۔ پہلی تجویز یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر صارفین کی شناخت کو لازمی بنایا جائے تاکہ کسی بھی جرائم، جیسے نفرت انگیز تقریر یا سائبر ہراسانی کی صورت میں، صارف کو پولیس کے ذریعے شناخت کیا جا سکے۔ دوسری تجویز یہ ہے کہ کمپنیاں اپنے الگورتھم کی “بلیک باکس” کو حکام کے سامنے کھولیں تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ آیا یہ نفرت انگیز تقریروں کو فروغ دے رہا ہے۔ تیسری تجویز یہ ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے مالکان کو ان کے پلیٹ فارمز پر ہونے والے واقعات کی قانونی ذمہ داری ہونی چاہیے۔
سانچیز نے کہا کہ جس طرح ایک ریستوران کا مالک اپنے گاہکوں کے زہر آلود ہونے کی صورت میں ذمہ دار ہوتا ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کے مالکان کو بھی عوامی بحث کو زہر آلود کرنے کی صورت میں جوابدہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے ایلون مسک اور مارک زکربرگ جیسے ٹیکنو ملینیرز کی طرف اشارہ کیا، جو اپنے پلیٹ فارمز پر نفرت انگیز مواد کو فروغ دیتے ہیں۔ سانچیز کا کہنا تھا کہ یورپی یونین میں ایسی کمپنیوں کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانی ہوگی، ورنہ انہیں قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سوشل میڈیا نے ابتدائی طور پر جمہوریت اور آزادی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا تھا، لیکن اب یہ پلیٹ فارمز نفرت اور تقسیم کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جعلی خبریں حقیقی خبروں کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ شیئر کی جاتی ہیں، اور تقریباً ایک تہائی اکاؤنٹس بوٹس ہیں۔ سانچیز نے کہا کہ سوشل میڈیا کو بند کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ دوبارہ مثبت بحث کا ذریعہ بن سکے۔
انہوں نے کہا کہ “ٹیکنو ملینیرز کا ایک چھوٹا گروہ” صرف معاشی طاقت حاصل کرنے پر اکتفا نہیں کر رہا، بلکہ سیاسی طاقت پر بھی قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ سانچیز نے پیٹر تھیل، پی پال کے بانی، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جمہوریت کو ختم کرنے کی بات کی ہے، کیونکہ وہ یہ مانتے ہیں کہ آزادی اور جمہوریت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
سانچیز نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح قواعد و ضوابط طے کرے تاکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم اس جنگ کو جیت سکتے ہیں، کیونکہ ہم بہتر ہیں، ہم زیادہ ہیں، اور ہم نے ماضی میں بھی ایسا کیا ہے”۔
اب یہ دیکھنا ہوگا کہ سانچیز کے اس بیان کا کیا عملی اثر ہوتا ہے اور کیا یورپی یونین میں اس طرح کے اقدامات کے لیے کافی حمایت موجود ہے۔
