پیرس: فرانس کی ایک خاتون کو طلاق کے بعد اپنے سابق شوہر کے 6 لاکھ یورو کے قرضے ادا کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ ایک “دھوکے باز” کے قرضے ادا کر رہی ہیں، جبکہ ان کے سابق شوہر نے طلاق کے بعد قرضوں سے علیحدگی کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے۔
کرسٹیل گیلوٹ، جو سارتھے میں ایک اسکول ٹیچر ہیں، نے 2016 میں اپنے شوہر سے طلاق لے لی تھی۔ طلاق کے وقت دونوں نے جائیداد کی تقسیم پر اتفاق کیا تھا کہ سابق شوہر دو مکانات اور ان سے منسلک قرضے اپنے پاس رکھیں گے، جبکہ کرسٹیل نے ایک اور گھر اپنے نام کیا۔ تاہم، طلاق کے بعد سابق شوہر نے قرضوں سے علیحدگی کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا، جس کی وجہ سے بینکوں نے اب کرسٹیل سے قرضوں کی واپسی کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔
کرسٹیل کا کہنا ہے کہ ان کے سابق شوہر نے آن لائن جوئے کی لت میں مبتلا ہو کر اپنے کلائنٹس کے ذاتی ڈیٹا کا غلط استعمال کرتے ہوئے قرضے حاصل کیے۔ یہ معاملہ منس کی عدالت میں پیش ہوا، جہاں سابق شوہر کو دھوکہ دہی کے الزام میں سزا سنائی گئی۔ کرسٹیل کے مطابق، ان کے سابق شوہر نے اپنے وسائل سے زیادہ خرچ کیا اور اپنے مکانات بیچ دیے، لیکن قرضے ادا نہیں کیے۔
کرسٹیل نے ایک انٹرویو میں کہا، “میں ایک دھوکے باز کے قرضے ادا کر رہی ہوں۔ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہی ہوں، حالانکہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔” ان کا یہ المیہ فرانس میں قرضوں کے بڑھتے ہوئے مسائل کی ایک اور کڑی ہے، جہاں بہت سے لوگ مالی بحران کا شکار ہیں۔
یہ واقعہ فرانس کی معاشی صورتحال کی ایک المناک تصویر پیش کرتا ہے، جہاں طلاق کے بعد خواتین کو اکثر مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کرسٹیل جیسی خواتین کے لیے قانونی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے سابق شریک حیات کے قرضوں کے بوجھ تلے دب کر زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہوں۔
