غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے، لیکن 15 ماہ سے جاری اس لڑائی نے ساحلی فلسطینی علاقے پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والے فضائی اور زمینی حملوں کا مقصد حماس کی فوجی اور حکومتی صلاحیتوں کو تباہ کرنا تھا، جس کے نتیجے میں 46 ہزار 600 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، اس جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کی بحالی میں کئی سال یا دہائیاں لگ سکتی ہیں۔
اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کا پہلا نشانہ شمالی غزہ تھا، جہاں بیت حنون جیسے علاقوں کو بھاری نقصان پہنچا۔ اکتوبر کے آخر میں اسرائیل نے شہریوں کو جنوب کی طرف منتقل ہونے کا حکم دیا، لیکن جنوبی شہروں پر بھی فضائی حملے جاری رہے۔ نومبر تک جنوبی غزہ کے کچھ حصے کھنڈرات میں بدل چکے تھے۔ دسمبر میں خان یونس پر زمینی کارروائی شروع ہوئی، اور جنوری تک غزہ کی نصف سے زیادہ عمارتیں تباہ ہو چکی تھیں۔
سیٹلائٹ ڈیٹا کے تجزیے کے مطابق، 15 ماہ کی جنگ نے غزہ کی پٹی میں تقریباً 60 فیصد عمارتوں کو نقصان پہنچایا ہے، جس میں غزہ شہر سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق، 90 فیصد سے زیادہ رہائشی یونٹ تباہ ہوئے ہیں، جن میں سے 160،000 مکمل طور پر اور 276،000 جزوی طور پر نقصان زدہ ہیں۔
غزہ کی 22 لاکھ آبادی میں سے زیادہ تر اب بے گھر ہو چکی ہے۔ اسرائیل کی حکمت عملی میں مسلسل تبدیلی کی وجہ سے متعدد فلسطینی خاندانوں کو کئی بار اپنا ٹھکانہ تبدیل کرنا پڑا۔ المواسی میں بے گھر افراد کے خیموں کا وسیع پھیلاؤ دیکھا جا سکتا ہے، جہاں 12 لاکھ سے زیادہ افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔
خوراک کی قلت بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق، تقریباً 18 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں سے 133،000 تباہ کن غذائی قلت کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، جنگ سے پہلے بھی 80 فیصد آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت تھی، لیکن اب یہ صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے۔
غزہ کی معیشت پر بھی جنگ کے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق، 2024 کی پہلی سہ ماہی میں غزہ کی معیشت میں 86 فیصد کمی آئی ہے، جو ریکارڈ پر سب سے بڑا معاشی تنزلی ہے۔ تقریباً 100 فیصد آبادی اب غربت میں زندگی گزار رہی ہے، اور بنیادی سامان کی قیمتوں میں 250 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
طبی سہولیات بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ غزہ کے 36 ہسپتالوں میں سے صرف 18 جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔ الشفا ہسپتال، جو کبھی غزہ کا سب سے بڑا طبی مرکز تھا، اب تباہ ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کے مطابق، غزہ میں ہونے والے نقصانات کی تلافی میں کافی وقت لگے گا۔ پانی اور صفائی ستھرائی کے نظام تقریباً مکمل طور پر ناکارہ ہو چکے ہیں، اور تباہی سے 50 ملین ٹن سے زیادہ ملبہ جمع ہوا ہے۔ یو این ای پی کا کہنا ہے کہ ملبے اور دھماکہ خیز مواد کو صاف کرنے میں 21 سال کا طویل وقت لگ سکتا ہے۔
غزہ کی پٹی میں بحالی کا عمل نہ صرف طویل بلکہ انتہائی مشکل ہوگا۔ جنگ کے بعد کے حالات میں غزہ کے لوگوں کو نہ صرف اپنے گھروں بلکہ اپنی معیشت، صحت اور ماحولیات کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہوگا۔
