فرانس میں بے روزگاری الاؤنس کے نئے قوانین پر بحث جاری ہے جو 7 نومبر کو پیش کیے گئے تھے۔ اس اصلاح کے تحت 55 سال سے زائد عمر کے کارکنوں کے لیے الاؤنس کی شرائط سخت کر دی گئی ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد سالانہ 400 ملین یورو کی بچت کرنا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں 55 سال سے زیادہ عمر کے ملازمین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نئے قوانین کے مطابق، 55 اور 56 سال کی عمر کے افراد کے لیے الاؤنس کی مدت 22.5 ماہ تک محدود کر دی گئی ہے، جبکہ 57 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے یہ مدت 27 ماہ ہوگی۔ یونینز نے اسے ملازمین کے حقوق پر حملہ قرار دیا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو پہلے ہی ملازمت کے بازار میں کمزور ہیں۔
یہ اصلاحات پینشن اصلاحات سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔ اب الاؤنس حاصل کرنے والوں کو 64 سال کی عمر تک پہنچنا ہوگا تاکہ وہ مکمل پینشن حاصل کر سکیں۔ اس تبدیلی نے بوڑھے کارکنوں کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے، جو اپنی ملازمت کے آخری سالوں میں ہیں۔
اس کے علاوہ، ثقافتی شعبے سے وابستہ فنکاروں اور تکنیکی ماہرین کے لیے بھی نئے قوانین متعارف کرائے گئے ہیں۔ فنکاروں کے لیے الاؤنس حاصل کرنے کے لیے ضروری گھنٹوں کی تعداد 580 تک بڑھا دی گئی ہے، جبکہ تکنیکی ماہرین کے لیے یہ تعداد 610 گھنٹے ہوگی۔ اس تبدیلی سے پہلے یہ تعداد 507 گھنٹے تھی۔ یہ اقدام ثقافتی شعبے میں پہلے سے کمزور پیشہ ور افراد کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
سرحدی کارکنوں کے لیے بھی نئے قوانین متعارف کرائے گئے ہیں۔ ان کے الاؤنس کا حساب اب ان کے کام کرنے والے ملک کی اوسط تنخواہ کے مطابق کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کارکن جو کم تنخواہ والے ممالک میں کام کرتے ہیں، ان کے الاؤنس میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
یہ اصلاحات یکم جنوری 2025 سے نافذ العمل ہوں گی، حالانکہ کچھ معاملات میں اس کی تاریخ کو مزید آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ یونینز اور ملازمت دہندگان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، لیکن یونینز کی طرف سے سخت مخالفت کی جا رہی ہے۔ سی جی ٹی نے اس منصوبے کو سماجی اقدار کی تضحیک قرار دیا ہے اور مذاکرات کی میز پر واپس جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
وزیر محنت ایسٹرڈ پینوسیئن-بوویٹ نے مذاکرات پر گہری نظر رکھی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ معاشی بچت کے ساتھ ساتھ کمزور طبقات کے حقوق کا بھی خیال رکھا جائے گا۔ تاہم، یونینز کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات معاشرتی ترقی کے بجائے پسپائی کا باعث بن سکتی ہیں۔
اس موضوع پر قارئین کی رائے بھی سامنے آئی ہے۔ ایک صارف نے کہا کہ وہ 62 سال کے ہیں اور اب ان کے الاؤنس میں نمایاں کمی ہو جائے گی، جس سے ان کی مالی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے۔ دوسرے صارفین نے بوڑھے کارکنوں کے ساتھ اس طرح کے سلوک کو ناانصافی قرار دیا ہے۔
یہ اصلاحات فرانس میں معاشی اور سماجی پالیسیوں پر ایک بڑی بحث کا حصہ ہیں، جس کے اثرات لاکھوں شہریوں کی زندگیوں پر مرتب ہوں گے۔
