قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے انکشاف کیا ہے کہ مذاکرات کاروں سے ان کی قیادت نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو معمول کے مطابق کام نہیں چلنے دینا۔ جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ ہم نے اپوزیشن سے طے کیا تھا کہ وہ احتجاج کریں، مگر ہر چیز کا وقت ہونا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ مصدقہ اطلاع کے مطابق، مذاکرات کاروں سے ان کی قیادت نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو معمول کے مطابق کام نہیں چلنے دینا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن پارلیمنٹ کو چلنے نہیں دینا چاہتی۔ جس دن ارکان نے اپنے حلقے کے مسائل پر بات کرنی ہوتی ہے، اس روز بھی وہ کورم کی نشاندہی کر دیتے ہیں۔ گزشتہ پیر سے اپوزیشن کے ساتھی صرف احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے کئی دفعہ اپیل کی کہ عوام کے ایشوز پر بھی بات کر لیں، لیکن وہ احتجاج کرتے ہیں، آدھا گھنٹہ یا 20 منٹ کے بعد چلے جاتے ہیں۔
ایاز صادق نے 2014 میں پارلیمنٹ پر حملے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت وہ بے بسی سے دیکھ رہے تھے۔ انہیں کہا گیا کہ فوری طور پر اسمبلی اجلاس ملتوی کریں کیونکہ ممبران کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان بدقسمت لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے 2014 میں پارلیمنٹ پر حملہ ہوتے دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے جسم سے پسینے چھوٹ گئے تھے اور وہ شدید تناؤ میں تھے۔
اسپیکر نے کہا کہ جمہوریت تب محفوظ ہوگی جب ہم سب مل کر جمہوریت کو سنجیدگی سے لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت میں ہمارے ممبران کو ایوان میں پیش نہیں کیا جاتا تھا، لیکن میری قیادت مجھے پروڈکشن آرڈر سے نہیں روکتی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسحاق ڈار کوشش کر رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کمیٹی کی اپنے لیڈر سے ملاقات ہو جائے۔
اختر مینگل کے حوالے سے ایاز صادق کا کہنا تھا کہ وہ کوشش کریں گے کہ اختر مینگل واپس اسمبلی میں آجائیں۔ انہوں نے کہا کہ اختر مینگل میرے پاس آئیں گے، ہاتھ سے لکھا استعفیٰ اور دو گواہ ہوں گے۔ میری کوشش ہوگی کہ اختر مینگل کو استعفیٰ نہ دینے پر منا لوں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں آج مسلسل دوسرے دن شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔ اپوزیشن نے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کا موقع نہ ملنے پر شدید احتجاج کیا۔ انہوں نے ‘اووو’ کی آوازیں نکالیں، ڈیسک بجائے، نعرے لگائے اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ اپوزیشن کے واک آؤٹ کے باوجود حکومت نے کارروائی جاری رکھتے ہوئے اہم بل پیش کیے۔
اسپیکر نے تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ایم این اے اور سینیٹرز کی تنخواہ بڑھے تو طوفان آجاتا ہے، لیکن دیگر کی تنخواہ بڑھے تو کچھ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ارکان قومی اسمبلی نے تنخواہیں بڑھانے پر بات کی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن سمیت ارکان قومی اسمبلی سے کہا کہ سب دستخط کریں تو تنخواہوں کا معاملہ اٹھاؤں گا۔
خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کے باوجود حکومت نے اپنے اہم بل پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔
