لاہور کی گلیوں میں صبح سویرے جب شہر کے لوگ اپنے گھروں میں آرام کر رہے ہوتے ہیں، محمد ندیم بانس کے جھاڑو اور لال ٹوپی کے ساتھ اپنے کام پر نکل پڑتے ہیں۔ وہ جوہر ٹاؤن کے علاقے میں گھر گھر جا کر کوڑا اکٹھا کرتے ہیں اور اس میں سے بوتلیں، کاغذ اور لوہا الگ کرتے ہیں۔ یہ کام وہ دس سال سے کر رہے ہیں، لیکن اس دوران انہیں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ندیم کہتے ہیں، ’’گند میں ہاتھ مارتے وقت کئی بار میرا ہاتھ کٹا ہے۔ کوڑے کو الگ کرنے کے لیے ہمیں گند میں ہاتھ ڈالنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ہمارے ہاتھوں پر زخم ہو جاتے ہیں۔‘‘
ندیم جیسے خاکروب شہر کو صاف رکھنے اور ری سائیکلنگ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن ان کی محنت کو کوئی نہیں پہچانتا۔ وہ کوڑے میں سے پلاسٹک، کاغذ اور دوسری قابل ری سائیکل اشیا الگ کرتے ہیں، جو بعد میں نئی مصنوعات بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، پلاسٹک کی بوتلیں ڈیکوریشن پیس یا گملوں میں تبدیل ہوتی ہیں، جبکہ پرانے کاغذ سے گتے تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم، پاکستان میں ری سائیکلنگ کا نظام ترقی یافتہ ممالک کی نسبت کمزور ہے، اور اس میں خاکروبوں کا کردار نہایت اہم ہے۔
ندیم اور ان جیسے خاکروب پورا دن محنت کرنے کے بعد کوڑے سے الگ کی گئی اشیا کو کباڑ میں بیچتے ہیں، جس سے انہیں روزانہ 300 سے 400 روپے ملتے ہیں۔ یہ رقم ماہانہ 12 ہزار روپے بنتی ہے، جو موجودہ مہنگائی کے دور میں انتہائی کم ہے۔ اس کے علاوہ، انہیں کوڑے میں موجود جراثیم سے بھی خطرہ لاحق رہتا ہے۔ ندیم نے بتایا، ’’ایک بار مجھے کوڑے سے جراثیم لگ گئے، جس کی وجہ سے میں بہت بیمار ہو گیا۔ بعد میں یہ جراثیم میرے بچوں کو بھی منتقل ہو گئے، جس کی وجہ سے ان کے علاج پر مجھے لوگوں سے قرض لینا پڑا۔‘‘
کیف علی بھی گذشتہ دس سال سے لاہور میں کوڑا اٹھانے کا کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے ہاتھ کی کوئی انگلی ایسی نہیں جو زخمی نہ ہوئی ہو۔ کیف کہتے ہیں، ’’ہمیں پتا ہے کہ کام گندا ہے، لیکن ہم کیا کریں؟ پیٹ کی خاطر ہمیں یہ کرنا پڑتا ہے۔‘‘ وہ بتاتے ہیں کہ لوگ انہیں انسان نہیں سمجھتے۔ ایک بار جب انہوں نے کسی سے کھانے کے لیے مانگا تو اس شخص نے انہیں کوڑا لے کر جانے کو کہہ کر دروازہ بند کر دیا۔
ندیم اور کیف جیسے خاکروب نہ صرف شہر کو صاف رکھتے ہیں، بلکہ ری سائیکلنگ کے ذریعے ماحول کی حفاظت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، انہیں حفاظتی سازوسامان کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ ندیم کہتے ہیں، ’’ہم جو جھاڑو استعمال کرتے ہیں، وہ بھی اپنے پیسوں سے خریدتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ہمیں کچھ نہیں دیا جاتا۔‘‘
لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے آپریشنز مینیجر چوہدری اسلم نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ادارے نے خاکروبوں کے لیے کوڑے کے ڈرم رکھے ہیں اور مستقبل میں انہیں حفاظتی سازوسامان فراہم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی حکومت نے پرائیویٹ کنٹریکٹرز کو بھی تعینات کیا ہے، جو خاکروبوں کو آگاہی فراہم کریں گے۔
لاہور کے خاکروب شہر کو صاف رکھنے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں، لیکن ان کی محنت کو کوئی نہیں پہچانتا۔ انہیں نہ صرف معاشی مشکلات کا سامنا ہے، بلکہ معاشرتی رویے بھی انہیں جینے نہیں دیتے۔ یہ خاکروب اپنے کام کے ذریعے نہ صرف شہر کو صاف رکھتے ہیں، بلکہ ماحول کی حفاظت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
