مراکش کے ساحل سے دور ایک بحری حادثے میں 21 پاکستانی شہریوں کو بچا لیا گیا ہے۔ یہ کشتی، جس پر 80 مسافر سوار تھے، موریتانیہ سے روانہ ہوئی تھی اور مراکش کے جنوبی علاقے ڈاخلا بندرگاہ کے قریب ڈوب گئی۔ پاکستان کے وزارت خارجہ نے اس حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ زندہ بچ جانے والے تمام پاکستانی شہریوں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق، پاکستان کی رباط میں قائم سفارت کو فوری طور پر متحرک کیا گیا تاکہ حادثے سے متاثرہ افراد کو درکار مدد فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرین کو خوراک، پانی، ادویات اور کپڑے جیسی بنیادی ضروریات فراہم کی گئی ہیں۔ ڈاخلا کی مقامی حکومت نے زندہ بچ جانے والے پاکستانی شہریوں کو عارضی رہائش اور طبی سہولیات مہیا کی ہیں۔
پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے ایک موبائل قونصلر ٹیم بھی حادثے کی جگہ پر موجود ہے جو بچاؤ کے عمل کی نگرانی کر رہی ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق، پاکستانی حکومت مراکشی حکام کے ساتھ مل کر متاثرہ شہریوں کو بہترین ممکنہ مدد فراہم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ واپسی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور اس معاملے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس حادثے کے تناظر میں اسلام آباد نے 24 گھنٹے کام کرنے والا ایک بحران سنٹر بھی قائم کیا ہے۔ متاثرہ مسافروں کے اہل خانہ کی تشویشات کو دور کرنے کے لیے ایک خصوصی ہیلپ لائن بھی جاری کی گئی ہے۔
زندہ بچ جانے والے شہریوں کو حادثے کے مقام کے قریب ایک عارضی کیمپ میں منتقل کیا گیا ہے جہاں انہیں انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ پاکستانی حکومت مراکشی حکام کے ساتھ مل کر ان کی سلامتی اور بہبود کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
یہ بحری حادثہ اس وقت پیش آیا جب کشتی موریتانیہ سے روانہ ہوئی تھی اور مراکش کے جنوبی ساحل کے قریب پہنچتے ہی ڈوب گئی۔ مقامی حکام اور پاکستانی سفارت خانے کی مشترکہ کوششوں سے 21 پاکستانی شہریوں کو بچا لیا گیا ہے۔ باقی مسافروں کی تلاش کا عمل جاری ہے۔
