ملتان ٹیسٹ کے دوسرے روز ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ لائن پاکستانی بولرز کے سامنے بے بس نظر آئی۔ پاکستان کی ٹیم 230 رنز پر ڈھیر ہونے کے بعد ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ بھی مشکلات کا شکار رہی۔ مہمان ٹیم نے صرف 66 رنز کے مجموعے پر 8 وکٹیں گنوا دیں، جس میں ساجد خان اور نعمان علی نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا۔
ویسٹ انڈیز نے بیٹنگ کا آغاز کیا تو ساجد خان نے ان کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی چاروں وکٹیں حاصل کیں، جن میں میکائیل لوئس کو ایک، کیاسی کارٹی کو صفر، کریک براتھویٹ کو 11 اور کیون ہوج کو 4 رنز پر آؤٹ کیا۔ ساجد خان کے بعد نعمان علی نے ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ لائن کو مزید تباہ کر دیا۔ انہوں نے جسٹن گریویس کو 4 رنز پر، ٹریون املیچ اور ایلک ایتھنیز کو 6، 6 رنز پر، جب کہ کلیون سنکلر کو 11 رنز پر پویلین بھیجا۔
پاکستان کی اننگز کے حوالے سے، ملتان ٹیسٹ کے دوسرے روز پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 4 وکٹ کے نقصان پر 143 رنز کے ساتھ نامکمل اننگز کا دوبارہ آغاز کیا تھا۔ تاہم، کھیل کے دوسرے روز کا آغاز بھی پاکستانی بیٹرز کے لیے اچھا نہیں رہا۔ سعود شکیل 84 اور سلمان آغا 7 رنز پر آؤٹ ہوئے، جب کہ محمد رضوان 71 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ رضوان کے بعد کریز پر آنے والے نعمان علی صفر پر چلتے بنے، جب کہ خرم شہزاد 7 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ کپتان شان مسعود نے 11، بابر اعظم 8، محمد ہریرہ 7 اور کامران غلام نے 5 رنز بنائے۔
ویسٹ انڈیز کے جیڈن سیلز اور جومیل وریکین نے 3، 3 وکٹیں حاصل کیں، جب کہ کیون سنکلیئر نے 2 اور گداکیش موتی نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ واضح رہے کہ ملتان ٹیسٹ کے پہلے روز کے اختتام پر پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 4 وکٹوں کے نقصان پر 143 رنز بنائے تھے۔
یہ میچ دونوں ٹیموں کے لیے کڑا امتحان ثابت ہو رہا ہے، جہاں گیند بازوں نے بیٹرز کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ویسٹ انڈیز کی باقی بیٹنگ لائن کس طرح پاکستانی بولرز کا مقابلہ کرتی ہے اور کیا وہ اس پریشانی سے باہر نکل سکتی ہے۔
