پیرس کی عدالت میں گذشتہ روز نکولس سرکوزی اور دیگر ملزمان نے 1989 میں یو ٹی اے فلائٹ 772 کے دہشت گردانہ حملے میں مارے جانے والے 170 افراد کے گھرانوں کی گواہیاں سنیں۔ یہ وہ المناک واقعہ تھا جس میں 18 ممالک کے شہری ہلاک ہوئے تھے جن میں سے 54 فرانسیسی تھے۔
متاثرین کے گھرانوں نے اپنے پیاروں کو کھونے کے 35 سال بعد بھی اپنے دلوں میں موجود درد اور غم کا اظہار کیا۔ ان کی آوازوں میں غصہ تھا لیکن ساتھ ہی بے پناہ وقار بھی۔ سب سے پہلے کلین خاندان نے اپنے بھائی ژاں پیئر کلین کے بارے میں بات کی، جو ایک ہونہار اداکار اور تھیٹر ڈائریکٹر تھے۔ ان کی بہن ڈینیئل نے بتایا کہ وہ کس طرح اپنے بھائی کے ساتھ گزرے خوبصورت لمحات کو یاد کرتی ہیں اور کس طرح ان کی موت نے پورے خاندان کو ہلا کر رکھ دیا۔
کلین خاندان یہودی النسل ہے جو ہولوکاسٹ سے بچ نکلا تھا۔ انہیں اپنے خاندان کی تاریخ پر فخر ہے جو لیون بلوم جیسے عظیم رہنما سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ژاں پیئر نے کانگو برازاویل میں ایک ڈکٹیٹر پر مبنی تھیٹر پلے تیار کیا تھا، لیکن اس کی پہلی پرفارمنس ان کی غیر موجودگی میں ہوئی جس میں سب کی آنکھیں اشک بار تھیں۔
نکولس سرکوزی اور دیگر ملزمان نے متاثرین کے گھرانوں کی گواہیاں خاموشی سے سنیں۔ ان کے چہروں پر ہلکا سا پیلاہٹ تھی جب انہوں نے ان لاکھوں جذبات کو محسوس کیا جو متاثرین کے دل میں 35 سال سے دبے ہوئے تھے۔ یہ مقدمہ 2007 کے صدارتی انتخابات میں لیبیا سے ممکنہ فنڈنگ کے الزامات سے متعلق ہے۔
متاثرین کے گھرانوں کی گواہیاں سن کر عدالت میں موجود ہر شخص پر ایک عجیب سی خاموشی طاری ہو گئی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب 35 سال پرانا درد ایک بار پھر زندہ ہو گیا، لیکن اس بار یہ عدالت کے سامنے تھا۔
