واشنگٹن ڈی سی کے رونالڈ ریگن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک تجارتی ہوائی جہاز اور فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان ہوا میں تصادم ہو گیا، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے وقت ہوائی جہاز میں 60 مسافر اور 4 عملے کے ارکان سوار تھے، جبکہ ہیلی کاپٹر میں تین فوجی افسران موجود تھے۔ تصادم کے بعد دونوں طیارے دریائے پوٹومیک میں گر گئے، جہاں سے اب تک 12 سے 19 لاشوں کو برآمد کیا جا چکا ہے۔
حادثے کے وقت ہوائی جہاز وِچیٹا، کنساس سے واشنگٹن ڈی سی کے لیے روانہ ہوا تھا اور ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے لیے تیار تھا۔ مقامی وقت کے مطابق شام 8:48 بجے ہیلی کاپٹر سے ٹکرا گیا۔ تصادم کے بعد آسمان میں آگ کا ایک بڑا گولہ دیکھا گیا، جس کے بعد دونوں طیاروں کے ملبے دریائے پوٹومیک میں جا گرے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ روکا جا سکتا تھا۔ انہوں نے ہیلی کاپٹر کے عملے کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ہوائی جہاز معمول کے مطابق لینڈنگ کے لیے تیار تھا، لیکن ہیلی کاپٹر نے اس کی سمت میں حرکت کی۔
حادثے کے بعد ایئرپورٹ پر تمام پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔ ریسکیو ٹیموں نے سردی اور برفانی حالات کے باوجود متاثرین کی تلاش جاری رکھی ہوئی ہے۔ امریکی گارڈ کوسٹ اور دیگر ایجنسیوں نے تمام دستیاب وسائل کو متحرک کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ ہوائی جہاز میں امریکن ایگل کی جانب سے چلائے جانے والے فلائٹ 5342 کے مسافروں میں دو سابق عالمی چیمپئن اسکیٹرز بھی شامل تھے، جو ایک تربیتی کیمپ سے واپس آرہے تھے۔
امریکی محکمہ دفاع اور قومی ٹرانسپورٹ سیفٹی بورڈ (این ٹی ایس بی) نے اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق، اس حادثے کو کسی مجرمانہ سرگرمی سے منسلک نہیں کیا جا رہا۔
یہ امریکہ میں 2009 کے بعد تجارتی ہوائی جہاز کا پہلا بڑا حادثہ ہے، جب کولگن ایئر کی پرواز نیویارک میں گر گئی تھی اور 49 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
