ویسٹ انڈیز کے کپتان کریگ بریتھوٹ نے ایک بار پھر دنیا کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ نہ تو قابلِ رحم ہیں اور نہ ہی مایوس کن۔ پچھلے سال برسبین میں آسٹریلیا کے خلاف تاریخی فتح کے بعد اب ان کی قیادت میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کے خلاف بھی ایک یادگار جیت درج کرائی۔
سال بھر پہلے جب برسبین میں شیمار جوزف کے زبردست سپیل نے ویسٹ انڈیز کو آسٹریلیا کے خلاف غیرمتوقع فتح دلائی تھی، تو کپتان کریگ بریتھوٹ نے اس کا سہرا سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر روڈنی ہاگ کو دیا تھا۔ ہاگ نے ویسٹ انڈین ٹیم کو ’قابلِ رحم اور مایوس کُن‘ قرار دیا تھا، جس کے جواب میں بریتھوٹ نے اپنے بازو اکڑائے اور اپنے ’بائیسیپ‘ مسلز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’کیا یہ مسلز آپ کے لیے کافی ہیں؟‘
بدقسمتی سے اس فتح کے بعد ویسٹ انڈیز کی کارکردگی میں وہ عروج نہیں دیکھا گیا جو متوقع تھا۔ تاہم، حالیہ دورہِ پاکستان میں بریتھوٹ کی قیادت میں ویسٹ انڈیز نے ایک بار پھر اپنی طاقت کا لوہا منوایا۔ پچھلے 35 برسوں میں پاکستان میں کوئی ٹیسٹ میچ نہ جیتنے والی ویسٹ انڈین ٹیم نے اس بار تاریخ رقم کی۔
سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو 109 رنز سے شکست دے کر سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔ بریتھوٹ نے نہ صرف بطور کپتان بلکہ بطور کھلاڑی بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کی بے دھڑک بلے بازی نے ویسٹ انڈیز کو مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کیا۔ دوسری اننگز میں بریتھوٹ کے ساتھ ساتھ گداکیش موتی اور جومیل واریکن نے بھی اہم شراکتیں کیں۔
پاکستانی ٹیم کے لیے یہ میچ کئی حوالوں سے مایوس کن رہا۔ ٹاپ آرڈر کی ناکامی اور بلے بازوں کی غیرضروری جارحیت نے پاکستان کو مشکل میں ڈال دیا۔ پہلی اننگز میں ویسٹ انڈیز کو مختصر مجموعے تک محدود کرنے کے باوجود، پاکستانی بلے باز اپنی اننگز کو تحمل سے آگے نہ بڑھا سکے۔
ویسٹ انڈیز کے سپنرز کیون سنکلیئر اور گداکیش موتی نے پاکستانی بلے بازوں کو بے حد مشکلات میں ڈال دیا۔ پاکستان کی ٹاپ آرڈر کی ناکامی کے بعد مڈل آرڈر بھی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا۔
پاکستانی کپتان شان مسعود نے میچ کے بعد اپنی ٹیم کی کارکردگی پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلے بازوں کی غیرضروری جارحیت نے ٹیم کو مشکل میں ڈال دیا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ویسٹ انڈیز نے بہترین کرکٹ کھیل کر فتح حاصل کی۔
ویسٹ انڈیز کے لیے یہ فتح نہ صرف سیریز کو برابر کرنے کے لیے اہم ہے بلکہ یہ ان کی کرکٹ میں بحالی کی طرف ایک اہم قدم بھی ہے۔ 1980/90 کی دہائیوں کی مائٹی ویسٹ انڈیز کے بعد، بریتھوٹ کی قیادت میں یہ ٹیم پاکستان میں پہلی بار کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ نتیجہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ٹیم کو اپنی بلے بازی اور حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اگلے چند ماہ تک پاکستان کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلے گا، جس سے ٹیم کو اپنی کمزوریوں پر کام کرنے کا موقع ملے گا۔
ویسٹ انڈیز کے لیے یہ لمحہ بے حد یادگار ہے۔ بریتھوٹ کی قیادت میں انہوں نے نہ صرف پاکستان میں اپنی پہلی ٹیسٹ جیت درج کی بلکہ یہ ثابت کیا کہ وہ اب بھی دنیا کی بہترین ٹیموں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
