واشنگٹن — ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت کے آغاز پر ہی ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے 6 جنوری 2021 کو کیپٹل ہل پر حملے میں ملوث 1500 سے زائد ملزمان کو معاف کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے 14 ایسے قیدیوں کی سزائیں بھی معطل کر دیں جو اس حملے کے دوران سنگین جرائم کے مرتکب ہوئے تھے۔ یہ اقدام ٹرمپ کی جانب سے اپنے حامیوں کو دیے جانے والے وعدے کی تکمیل ہے، جس کے تحت انہوں نے حملے کے ملزمان کو “قومی ناانصافی” کا شکار قرار دیا تھا۔
ٹرمپ نے اس معافی کو “مکمل، غیر مشروط اور حتمی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ “چار سالوں سے جاری ایک بڑی ناانصافی کا خاتمہ ہے۔” انہوں نے معافی پانے والوں کو “یرغمال” قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اسی رات جیل سے رہا ہو جائیں گے۔
کیپٹل ہل پر حملے کے دوران ہزاروں ٹرمپ حامیوں نے کانگریس کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا، جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور 140 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ یہ واقعہ امریکہ کی تاریخ کا ایک سیاہ دن سمجھا جاتا ہے۔ ٹرمپ نے اس حملے کو “امن اور محبت کا اظہار” قرار دیا تھا، جبکہ حقیقت میں یہ ایک تشدد آمیز بغاوت تھی۔
واشنگٹن کی ایک جیل کے باہر جمع ہونے والے حامیوں میں جوش و خروش دیکھا گیا، جہاں حملے کے کئی ملزمان قید تھے۔ ان میں سے کئی افراد کو سنگین جرائم کی پاداش میں طویل سزائیں سنائی گئی تھیں۔ معافی کی خبر سن کر قیدیوں کے خاندان اور حامیوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ ایک قیدی کے والد نے کہا کہ ان کا بیٹا تین سال سے جیل میں ہے اور اس پر 12 سنگین الزامات عائد تھے۔
ٹرمپ کے اس فیصلے نے کیپٹل ہل حملے سے متعلق چلنے والے مقدمات کا خاتمہ کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق، یہ مقدمہ امریکہ کی تاریخ کا ایک اہم کیس تھا، جس میں سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ٹرمپ کے اس اقدام کے بعد اب ان مقدمات کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت کے پہلے دن ہی کئی اہم فیصلے کیے، جن میں امیگریشن، ماحولیات اور تنوع کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے واشنگٹن میں اپنی تقریر کے بعد تین تقریبات میں شرکت کی، جبکہ جیل کے باہر ان کے حامیوں نے امریکی ترانہ گا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔
ٹرمپ کے اس فیصلے پر تنقید بھی ہو رہی ہے، جس میں انہیں تشدد کو فروغ دینے کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ تاہم، ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام “قومی اتحاد” کو مضبوط کرے گا۔
