امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین میں جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے اپنے خصوصی نمائندے کو 100 دن کا وقت دے دیا ہے۔ یہ انکشاف وال اسٹریٹ جرنل نے کیا ہے، جس کے مطابق ٹرمپ نے جنرل کیٹھ کیلوگ کو یہ ذمہ داری سونپی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کے صدر وولوڈیمیر زیلنسکی اور روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے بات چیت کر کے اس تنازعے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔
ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد کہا تھا کہ یوکرین جنگ ان کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے زیلنسکی اور پیوٹن دونوں سے بات چیت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ زیلنسکی کو کہیں گے کہ وہ ایک معاہدے پر پہنچیں، جبکہ پیوٹن کو خبردار کریں گے کہ اگر وہ معاہدہ نہیں کرتے تو امریکہ یوکرین کو مزید امداد فراہم کرے گا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ٹرمپ نے جنرل کیلوگ کو 100 دن کا وقت دیا ہے کہ وہ اس تنازعے کو حل کرنے کے لیے کوششیں تیز کرے۔ تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ روس اور یوکرین کے درمیان مفادات کا ٹکراؤ بہت گہرا ہے۔
یوکرین کی جانب سے جنگ بندی کے لیے بنیادی شرائط میں روسی فوج کا یوکرینی علاقوں سے مکمل انخلا، جنگی جرائم کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانا، اور یوکرین کو معاشی معاوضہ دینا شامل ہیں۔ دوسری طرف، روس یوکرین کے کچھ علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور یوکرین کی نیٹو یا یورپی یونین میں شمولیت کو روکنے پر زور دے رہا ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے جنرل کیلوگ کو دیے گئے 100 دن کے عرصے میں کامیابی کے امکانات کو لے کر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روسی قیادت اس معاملے میں لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں ہے، خاص طور پر جب کہ روسی فوج یوکرین کے مشرقی علاقوں میں پیش قدمی کر رہی ہے۔
ٹرمپ کی اس کوشش کے باوجود، یوکرین جنگ کا حل تلاش کرنا ایک پیچیدہ اور مشکل عمل ہے، جس کے لیے دونوں فریقوں کی جانب سے سمجھوتے کی خواہش اور بین الاقوامی برادری کی مدد درکار ہوگی۔
