واشنگٹن: نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ بہت قریب ہے اور ممکنہ طور پر اس ہفتے کے آخر تک مکمل ہوجائے گا۔ امریکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یہ کرنا ہے اور اگر وہ یہ نہیں کرپاتے تو وہاں بڑی پریشانی ہوگی، جیسی انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔
ٹرمپ نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ایک مصافحہ ہوا ہے، وہ اسے ختم کررہے ہیں اور شاید یہ اس ہفتے کے آخر تک ہوجائے۔ واضح رہے کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے لیے کوششیں حتمی مراحل میں داخل ہوچکی ہیں اور مختلف ذرائع سے آنے والی خبروں کے مطابق قطر اور دیگر ممالک کے حکام نے جنگ بندی معاہدے کا حتمی مسودہ اسرائیلی حکام اور حماس کو بھیج دیا ہے۔
قطر میں جاری مذاکرات میں رات گئے مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ دوحہ میں غزہ جنگ بندی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہونے والے مذاکرات میں اہم نکات پر خاطر خواہ پیشرفت ہوئی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہائی کے بدلے حماس کے ہاتھوں یرغمال 30 اسرائیلیوں کو رہا کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
غزہ میں جاری تشدد کے باعث حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک سیکڑوں فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔
ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی سطح پر غزہ جنگ بندی کے امکانات پر توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی معاہدہ ہوجاتا ہے تو یہ خطے میں امن کی جانب ایک اہم قدم ہوگا۔ تاہم، اس معاہدے کے حتمی ہونے تک صورتحال غیر یقینی ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
دوسری جانب، قطر نے جنگ بندی کے حتمی مسودے کو اسرائیل اور حماس کے درمیان پہنچا دیا ہے اور دونوں فریقوں سے جلد از جلد جواب کی توقع کی جارہی ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے بھی اس معاہدے کو فوری طور پر نافذ کرنے پر زور دیا جارہا ہے تاکہ مزید جانی نقصان کو روکا جاسکے۔
