ٹک ٹاک نے گزشتہ ہفتے اتوار کو امریکہ میں اپنی خدمات دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ یہ سروسز 18 جنوری کی رات کو بند کر دی گئی تھیں۔ ٹک ٹاک نے اپنی خدمات بحال کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے کہا تھا کہ وہ ٹک ٹاک پر کوئی پابندی نہیں لگائے گی۔
ٹک ٹاک، جو چین کی کمپنی بائٹ ڈانس کی ملکیت ہے، نے کہا کہ ٹرمپ کے بیان سے وضاحت اور یقین دہانی ملی ہے کہ امریکہ کے 17 کروڑ صارفین کے لیے ٹک ٹاک کے سروس فراہم کرنے والوں کو کسی بھی جرمانے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ پچھلے ہفتے کے آخر میں پلیٹ فارم کو بند کر دیا گیا تھا، کیونکہ ایک وفاقی قانون کے تحت پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس کو 19 جنوری تک اپنے امریکی آپریشنز فروخت کرنے کے لیے جو وقت مقرر کیا گیا تھا، وہ گزر چکا تھا۔
ٹرمپ نے وفاقی قانون کے تحت لگائی گئی پابندی کے بارے میں کہا کہ وہ ایک ایگزیکٹیو آرڈر جاری کریں گے، جس سے ٹک ٹاک کو کسی خریدار کو ڈھونڈنے کے لیے مناسب وقت مل سکے گا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر امریکا کے لوگوں سے اس کی ملکیت میں حصہ لینے کے لیے کہا۔ ٹرمپ نے کہا کہ مشترکہ منصوبے کا 50 فیصد حصہ امریکہ کا ہونا چاہیے، جس سے ٹک ٹاک کی قیمت سینکڑوں ڈالرز تک بڑھ سکتی ہے۔
ٹک ٹاک کی پیرنٹ کمپنی، بائٹ ڈانس، نے پہلے اس قانون کو نظر انداز کیا تھا، جس میں پابندی سے بچنے کے لیے اسے اپنے امریکی آپریشنز کو فروخت کرنے کی ضرورت تھی۔ 17 جنوری کو سپریم کورٹ نے اس قانون کو برقرار رکھا اور یہ 19 جنوری سے نافذ ہو گیا۔ واضح رہے کہ ماضی میں ٹرمپ نے ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کی حمایت کی تھی۔ پہلی بار امریکی صدر بننے کے بعد انہوں نے ٹک ٹاک کو بند کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔
ٹرمپ کے بیان کے بعد، ٹک ٹاک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ “سروس بحال ہونے کے مراحل میں ہے۔ ہم اپنے سروس فراہم کنندگان کو ضروری وضاحت اور یقین دہانی فراہم کرنے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔”
امریکہ میں ٹک ٹاک کے 15 کروڑ صارفین ہیں۔ یہ نوجوان ووٹروں تک پہنچنے کے لیے امریکی سیاسی مہمات کا ایک قیمتی ذریعہ بھی ثابت ہوا ہے۔ تاہم، یہ غلط معلومات سے بھی بھرپور ہے اور اس کی چینی ملکیت نے طویل عرصے سے اندرون اور بیرون ملک قومی سلامتی کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
ٹرمپ نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ٹک ٹاک کے ساتھ بہت سے لوگوں کا روزگار جُڑا ہوا ہے۔ چین کو نشانہ بناتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، “ہم نہیں چاہتے کہ ہمارا کاروبار چین یا کسی اور کو دیا جائے۔”
سال 2020 میں بائٹ ڈانس پر فروخت کا دباؤ بڑھانے کے ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کرنے کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ ٹک ٹاک کے ذریعے نوجوان ووٹرز تک پہنچنے کا سہرا اس ایپ کے سر ہے۔ تاہم، جب تک بائٹ ڈانس فروخت نہیں ہوتا، یہ کہنا مشکل ہوگا کہ نیا صدر پابندی کو ختم کرنے کے لیے کیا کر سکتا ہے۔ اگر وائٹ ہاؤس قابل عمل معاہدے کی طرف پیش رفت کا مظاہرہ کرتا ہے، تو قانون سازی پابندی میں 90 دن کی تاخیر کی اجازت دیتی ہے۔ تاہم، بائٹ ڈانس نے اب تک واضح طور پر اس طرح کے کسی بھی لین دین کی تردید کی ہے۔
ٹک ٹاک پر پابندی عائد ہونے کے حوالے سے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے کہا تھا کہ “چین پرائیویسی اور ڈیٹا کی حفاظت کو بہت اہمیت دیتا ہے اور واشنگٹن کو اپنی پابندی کے بارے میں معقول خیالات سننا چاہیں۔” ماؤ ننگ کا مزید کہنا تھا، “ہم کبھی بھی دوسرے ممالک میں موجود افراد یا کمپنیوں سے اس ملک کا ڈیٹا اس طرح فراہم کرنے کے لیے نہیں کہیں گے، جس سے اُس کے قوانین کی خلاف ورزی ہو۔”
ایسٹونیا کے وزیر خارجہ مارگس تسیہاکانہ نے ٹک ٹاک پر پابندی عائد ہونے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ “یورپ کو بھی اس ایپ پر پابندی لگانے پر غور کرنا چاہیے۔” میلبورن میں آسٹریلین اوپن ٹینس میچ کے دوران، امریکی ٹینس کھلاڑی کوکو گاف نے کورٹ سائیڈ کیمرے پر “RIP TikTok USA” لکھا، جس سے ٹک ٹاک پابندی کے بارے میں ایک گرما گرم بحث چھڑ گئی۔
فونڈ دولاک پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، امریکی شہر وسکونسن میں ایک شخص پر ویڈیو شیئرنگ ایپ پر پابندی کے سلسلے میں 19 جنوری کی صبح ایک خالی عمارت کو آگ لگانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق، اس عمارت میں کانگریس کے ایک رکن کا دفتر بھی تھا۔
