پاکستان کے قومی خلائی ادارے سپارکو کی جانب سے تیار کردہ پہلا الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ چین کے جیو چوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے خلا میں روانہ کر دیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ سیٹلائٹ فصلوں کی نگرانی، شہری ترقی، منصوبہ بندی اور دیگر شعبوں میں اہم کردار ادا کرے گا۔
آئی ایس پی آر کے ترجمان نے بتایا کہ یہ سیٹلائٹ سیلاب، زلزلے، جنگلات کی کٹائی، تیل و گیس کی دریافت جیسے معاملات میں بھی معلومات فراہم کرے گا۔ سپارکو کے ترجمان نے کہا کہ یہ سنگ میل خلائی تحقیق میں خود انحصاری اور تکنیکی مہارت کی طرف پاکستان کے سفر میں اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیٹلائٹ سپارکو کے انجینئرز اور سائنسدانوں کی محنت اور مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ یہ سیٹلائٹ قدرتی وسائل کی موثر نگرانی، آفات کے انتظام، شہری منصوبہ بندی اور زرعی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔ یہ زراعت، کاشتکاری، آبپاشی کے انتظام اور فصل کی پیداوار کی پیشگوئی میں بھی مددگار ہوگا۔ شہری منصوبہ بندی کے لیے یہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی نگرانی اور شہری پھیلاؤ کے انتظام میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس کامیاب لانچ کو قوم کے لیے قابل فخر لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیٹلائٹ فصلوں کی پیداوار کی پیشگوئی سے لے کر شہری ترقی کے منصوبوں تک انتہائی معاون ثابت ہوگا۔ وزیراعظم نے سپارکو کے سائنسدانوں اور انجینئرز کو ان کی لگن اور بہترین ٹیم ورک پر مبارکباد دی۔
سپارکو کے ترجمان نے بتایا کہ یہ سیٹلائٹ قدرتی آفات جیسے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور زلزلوں کے بارے میں بروقت معلومات فراہم کرے گا۔ معدنیات، تیل اور گیس کے ذخائر سمیت قدرتی وسائل کی نگرانی اور تحفظ میں بھی یہ سیٹلائٹ اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترقی اور باخبر فیصلہ سازی کے لیے ایک اہم ذریعہ ثابت ہوگا۔
یہ کامیاب لانچ پاکستان کے خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے اور ملک کی خلائی صلاحیتوں کو مزید تقویت دیتی ہے۔ سپارکو کے عزم اور کوششوں سے پاکستان خلائی تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں خود انحصاری کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
