تیون املاچ کو اتنی مہلت بھی نہ ملی کہ وہ ابرار احمد کی گیند کا جواب دے پاتے۔ یہ ایک لیگ بریک تھی جو مڈل سٹمپ پر پڑی اور اتنی تیزی سے مڑی کہ املاچ کے بلے کا باہری کنارہ چھوتی ہوئی وکٹ کیپر رضوان کے ہاتھوں میں جا پہنچی۔ براڈکاسٹ ڈیٹا کے مطابق یہ گیند 6 ڈگری سے زیادہ ٹرن ہوئی، جس نے نہ صرف املاچ بلکہ ویسٹ انڈیز کی امیدوں کو بھی خاک میں ملا دیا۔
ملتان کی تیسری صبح ویسٹ انڈیز کے لیے خوش بختی لے کر آئی جب انہیں پہلی ہی گیند پر سعود شکیل کی وکٹ ملی، جو حالیہ برسوں میں سپن کے خلاف پاکستان کا موثر ترین ہتھیار رہے ہیں۔ تاہم، سعود کی یہ ناکامی ان کی تکنیک یا انتخاب کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ پچ کا غیر متوقع باؤنس اور بے تحاشہ ٹرن تھا، جو کسی بھی بلے باز کے لیے مشکل ثابت ہوا۔
پچھلے تین دنوں میں کھیلی گئی کرکٹ کے حالات بنیادی طبعی قوانین سے اس قدر مختلف تھے کہ کسی بھی کھلاڑی کی اصل صلاحیت کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔ چار اننگز میں صرف چار بلے باز ہی پچاس رنز کا ہندسہ عبور کر پائے۔ اگرچہ تکنیکی درستگی ہمیشہ ٹیسٹ بلے باز کی طاقت ہوتی ہے، لیکن یہاں بیشتر گیندوں کا رویہ اتنا غیر معمولی تھا کہ تکنیکی مہارت بھی قسمت کے رحم و کرم پر تھی۔
میچ کے فیصلے میں پہلی اننگز سے سعود شکیل اور محمد رضوان کی وکٹیں کلیدی ثابت ہوئیں۔ ویسٹ انڈیز نے آخری سات وکٹیں صرف 51 رنز کے عوض گنوائیں، جس نے ان کے ڈریسنگ روم کا اعتماد بحال کر دیا۔ تاہم، ساجد خان کی ابتدائی یلغار نے ویسٹ انڈیز کو دوبارہ پچھاڑ دیا۔
ایلک ایتھانیز نے دوراندیشی دکھاتے ہوئے کریز پر جم کر کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے تیون املاچ کے ساتھ مل کر ایک مضبوط شراکت قائم کی، جس نے ویسٹ انڈیز کو بقا کی امید دلائی۔ لیکن ابرار احمد کی ایک گیند نے یہ امید بھی ختم کر دی، اور آخری پانچ ویسٹ انڈین وکٹیں صرف 28 رنز کے عوض گر گئیں۔
ملتان کی پچ پر کھیلا گیا یہ میچ ناقابل یقین کرکٹ کا نمونہ تھا، جہاں چار اننگز کی چالیس وکٹیں صرف 176 اوورز میں حاصل ہوئیں۔ ملتان سٹیڈیم، جو عام طور پر بلے بازوں کی جنت سمجھا جاتا ہے، اس بار بلے بازوں کے لیے جہنم بن گیا، جہاں اوسط صرف 16 رنز رہی۔
ویسٹ انڈیز کی ناکامی کے پیچھے تکنیکی اور نفسیاتی عوامل کا ہاتھ ہو سکتا ہے، لیکن ملتان کے پہلے ٹیسٹ کی حتمی حقیقت یہی تھی کہ پاکستان کے ’ٹرن‘ نے ویسٹ انڈیز کی تمام امیدوں کو خاک میں ملا دیا۔
