پنجاب حکومت نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے ایک نئی سکیم کا اعلان کیا ہے جس کے تحت کاروبار کے لیے تین کروڑ روپے تک بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے شروع کی گئی اس سکیم کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو فروغ دینا ہے۔ اس سکیم کے تحت کاروباری افراد کو خام مال کی خریداری کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلا سود قرض بھی دیا جائے گا۔ حکومت کے مطابق یہ سکیم مردوں، خواتین، خواجہ سرا اور معذور افراد کے لیے یکساں طور پر دستیاب ہوگی۔
تاہم، یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پاکستان میں بلا سود قرضوں کی سکیم متعارف کرائی گئی ہو۔ ماضی میں بھی مختلف حکومتوں نے اسی طرح کے منصوبے شروع کیے تھے۔ سنہ 2009 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے کم آمدنی والے افراد کو تین لاکھ روپے تک بلا سود قرضے دینے کا منصوبہ شروع کیا تھا۔ اسی طرح 2014 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بھی اسی نوعیت کی سکیم کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کے دور میں بھی نوجوانوں کو کاروبار کے لیے آسان قرضے فراہم کرنے کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔
ماہرین معیشت کے مطابق، ماضی میں شروع کی گئی ان سکیموں سے کوئی خاص معاشی فوائد حاصل نہیں ہوئے۔ سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ ایسے منصوبے زیادہ تر سیاسی مقاصد کے تحت شروع کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی کامیابی کا امکان کم ہوتا ہے۔ ان کے بقول، اگر ان سکیموں سے کوئی فائدہ ہوتا تو پاکستان میں معاشی انقلاب برپا ہو چکا ہوتا۔
بینکاری اور معیشت کے ماہر راشد مسعود عالم کا کہنا ہے کہ حکومتیں عوامی بیزاری کو کم کرنے کے لیے ایسی سکیمیں شروع کرتی ہیں۔ ان کے مطابق، دنیا بھر میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو فروغ دینے کے لیے قرضے دیے جاتے ہیں، لیکن پاکستان میں اس کے لیے کوئی واضح نظام موجود نہیں ہے۔
پنجاب حکومت کی نئی سکیم کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ اس کا انجام بھی ماضی کے منصوبوں کی طرح ہو سکتا ہے۔ ماہر معیشت شاہد محمود کے مطابق، یہ منصوبے نئے نہیں ہوتے بلکہ صرف ری برانڈ کر کے پیش کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بینک پہلے ہی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے قرضے فراہم کر رہے ہوتے ہیں، اور حکومت صرف انہیں نئے سرے سے پیش کرتی ہے۔
تاہم، سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی یہ کوشش قابل تعریف ہے۔ ان کے مطابق، ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو بینکوں سے قرضے حاصل کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور حکومت کی یہ سکیم ان کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
آسان قرضوں کے منصوبوں کا بینکوں پر کیا اثر پڑتا ہے؟ ماہرین کے مطابق، یہ قرضے زیادہ تر سرکاری بینکوں کے ذریعے دیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے کمرشل بینکوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ حکومت کی جانب سے سود کی ادائیگی کی ضمانت ہونے کی وجہ سے بینکوں کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔
مختصراً، پنجاب حکومت کی نئی سکیم کے بارے میں ماہرین کی رائے منقسم ہے۔ کچھ اسے ایک اچھی کوشش قرار دیتے ہیں، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ یہ صرف سیاسی مقاصد کے تحت شروع کی گئی ہے اور اس کے معاشی فوائد محدود ہوں گے۔
