عالمی سفارت کاری کے ایک اہم موڑ پر، پاکستان جنیوا میں امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والے ایک جامع معاہدے کی باقاعدہ دستخطی تقریب کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں ایک نئے باب کے آغاز کی علامت ہے۔
جنگ کا خاتمہ اور مذاکرات کے نئے مراحل
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں سفارت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے تصدیق کی کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ کا باضابطہ خاتمہ پیر کو تہران کے وقت کے مطابق ہو گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مفاہمت کی اس یادداشت پر عمل درآمد جمعہ سے متوقع ہے۔
عراقچی نے مستقبل کے مذاکرات کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا۔ پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، امریکی بحری ناکہ بندی اور تعمیر نو کی کوششوں جیسے معاملات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ دوسرے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں میں نرمی پر بات چیت کی جائے گی، جس کا حتمی مقصد ایک طے شدہ معاہدے تک پہنچنا ہے۔
جوہری معائنہ کاروں کی واپسی یقینی
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ جوہری معائنہ کار “یقینی طور پر” ایران واپس جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مفاہمت کی یادداشت میں واضح طور پر درج ہے کہ عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی اور امریکہ، ایران کو اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔
خفیہ ایجنسی کے تحفظات اور ٹرمپ کا فیصلہ
دریں اثنا، امریکی خفیہ ایجنسی کے اعلیٰ حکام نے ایران کے جوہری مراعات دینے کے حوالے سے اپنے شکوک کا اظہار کیا ہے۔ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا کہ ایرانی حکام کی داخلی گفتگو اس کے برعکس ہے جو وہ ثالثوں اور واشنگٹن کو بتا رہے ہیں۔ تاہم، وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے زور دے کر کہا کہ صدر ٹرمپ تمام آرا سنتے ہی لیکن حتمی فیصلہ ان کا ہے، اور موجودہ مفاہمت کی یادداشت انتظامیہ کی تمام شرائط پر پورا اترتی ہے۔
علاقائی اثرات اور بحری آمدورفت
یہ معاہدہ علاقائی تعاون کے نئے دروازے کھول رہا ہے۔ ایرانی وزیر توانائی نے اعلان کیا کہ ایران جلد ہی اپنی بجلی کی گرڈ کو قطر سے منسلک کرنے جا رہا ہے، جبکہ خلیجی ممالک کے ساتھ بھی اسی طرح کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔
تاہم، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی ٹینکر آپریٹر کمپنی میتسوئی او ایس کے لائنز کے سربراہ نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ جہاز ران اس وقت تک آبنائے ہرمز سے گزرنے کا سلسلہ دوبارہ شروع نہیں کریں گے جب تک انہیں اس بات کا مکمل یقین نہ ہو جائے کہ معاہدہ “عملی اور موثر” ہے، جس میں ممکنہ طور پر ہفتے لگ سکتے ہیں۔
ترکی اور یورپی یونین کا ردعمل
ترکی نے ایران کو بتایا ہے کہ اسے امید ہے کہ مزید امریکہ-ایران مذاکرات اس معاہدے کو تقویت دیں گے۔ دوسری جانب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالس نے کہا ہے کہ یورپی یونین اس معاہدے کے بعد مشرق وسطیٰ میں اپنی ممکنہ شرکت پر غور کرے گی۔ رپورٹس کے مطابق، معاہدے میں آبنائے ہرمز میں بحری خدمات کی فیسوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
یہ یادداشت، جسے امریکی نائب صدر نے ڈیڑھ صفحے پر مشتمل ایک “انتہائی عمومی دستاویز” قرار دیا، جمعہ کو ذاتی طور پر دستخط کیے جانے سے قبل اس کی تفصیلات پر تکنیکی مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
