اسلام آباد: جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے وزیراعظم شہباز شریف کی ‘چارٹر آف اکانومی’ کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئےیک متبادل دستاویز ‘چارٹر آف پاکستان’ کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ آئینی بالادستی اور سیاسی استحکام کے بغیر کوئی بھی معاشی اصلاحات کامیاب نہیں ہو سکتیں۔
یہ موقف سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ نے اپنے وکیل رانا مدثر کے ذریعے جاری کردہ ایک خط میں اپنایا۔ قائدین نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ مشکلات سے نکالنے کے لیے بلاشبہ ایک چارٹر کی ضرورت ہے، لیکن “پاکستان کو ‘چارٹر آف اکانومی’ سے پہلے ‘چارٹر آف پاکستان’ کی ضرورت ہے۔”
آئین محض کتابوں میں ہے تو معاشی چارٹر کیسے کامیاب ہوگا؟
پی ٹی آئی رہنماؤں نے وزیراعظم کے اس بیان پر ردعمل دیا جس میں انہوں نے 13 جون کو قومی اسمبلی میں ‘چارٹر آف اکانومی’ اور ‘چارٹر آف ڈیموکریسی’ کی تجدید کی تھی۔ خط میں سوال اٹھایا گیا کہ “جب آئینی بالادستی صرف کتابوں میں موجود ہے اور سیاسی و معاشی استحکام دور کی بات بن چکے ہیں، تو کیا محض ‘چارٹر آف اکانومی’ ملک کو درست راستے پر ڈال سکتا ہے؟”
انہوں نے سیاست اور معیشت کے تعلق پر زور دیتے ہوئے لکھا: “ہر کوئی اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔” خط میں دلیل دی گئی کہ سرمایہ کاری اور ترقی صرف وہیں پروان چڑھتی ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہو، سیاسی اور معاشی استحکام ہو اور آئین سب سے بالا ہو۔
‘کنویں کا پانی گندہ ہو تو ڈول بدلنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا’
پی ٹی آئی قائدین نے اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے ایک کہاوت کا سہارا لیا: “ایک پرانی کہاوت ہے کہ اگر کنویں کا پانی گندا ہو تو ڈول بدلنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، پہلے آلودگی کے منبع کو ختم کرنا ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا کہ “جب تک بحران کی جڑ کو ختم نہیں کیا جاتا، کوئی بھی بامعنی اصلاح کامیاب نہیں ہو سکتی”
مجوزہ ‘چارٹر آف پاکستان’ کے تحت ان کا مطالبہ ہے کہ تمام سیاسی قوتوں، ریاستی اداروں اور طاقت کے مراکز کو آئین کی مکمل بالادستی پر متفق ہونا چاہیے۔ اس چارٹر میں یہ ضمانتیں شامل ہونی چاہئیں:
قائدین نے یہ بھی کہا کہ “دنیا کی کامیاب قوموں نے پہلے اپنے سیاسی کھیل کے اصول طے کیے اور اس کے بعد معاشی معجزے تخلیق کیے،” اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ “سیاسی استحکام معاشی استحکام کو جنم دیتا ہے، نہ کہ اس کے برعکس۔”
خط کے اختتام پر پی ٹی آئی رہنماؤں نے کہا کہ اگر وزیراعظم شہباز شریف ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں واقعی سنجیدہ ہیں، تو “ایک اور سیاسی بیان جاری کرنے کے بجائے، انہیں ‘چارٹر آف پاکستان’ پر قومی مکالمے کی بنیاد رکھنی چاہیے۔”
